LIVE
Loading Breaking News...

ایم ٹی اے الیکٹرک بس منصوبہ: نیویارک کے کلین انرجی اہداف کو بڑا دھچکا

News Image
نیویارک کی میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (ایم ٹی اے) اپنے بسوں کے بیڑے کو مکمل طور پر الیکٹرک بنانے کے مقررہ ہدف سے پیچھے رہ گئی ہے۔ ریاستی آڈیٹر کی نئی رپورٹ کے مطابق 2040 تک الیکٹرک بسوں کے ہدف کا حصول ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔
نیویارک کی میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (ایم ٹی اے) کے لیے ایک بڑا دھچکا سامنے آیا ہے، جہاں ریاستی کمپٹرولر کے دفتر کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ادارہ اپنے بسوں کے بیڑے کو الیکٹرک بنانے کے اہداف سے نمایاں طور پر پیچھے رہ گیا ہے۔ ایم ٹی اے نے پہلے یہ عزم کیا تھا کہ وہ 2040 تک اپنے تمام بسوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کر دے گا، لیکن موجودہ حالات اور پیش رفت کی سست روی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس ڈیڈ لائن کا حصول اب ممکن نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور منصوبہ بندی میں خامیوں کی وجہ سے یہ اہم کلین انرجی پروجیکٹ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق نیویارک شہر کے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، تاہم ایم ٹی اے کی انتظامیہ تکنیکی اور مالیاتی رکاوٹوں کا شکار نظر آتی ہے۔ آڈٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ الیکٹرک بسوں کی خریداری اور ان کے لیے ضروری چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب کا عمل انتہائی سست ہے۔ اگرچہ ایم ٹی اے حکام کی جانب سے اس منصوبے کو ترجیح دینے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ مطلوبہ رفتار حاصل نہ ہونے کے باعث شہر کا کلین انرجی کا خواب تاحال ادھورا ہے۔ اس صورتحال نے ماحولیاتی کارکنوں اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر پریشان ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر پالیسیوں میں تبدیلی نہ لائی گئی اور وسائل کو درست سمت میں خرچ نہ کیا گیا، تو نیویارک شہر کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ماحول دوست بننے میں مزید دہائیاں لگا سکتا ہے۔ ایم ٹی اے کی جانب سے تاحال اس آڈٹ رپورٹ پر کوئی حتمی وضاحت نہیں دی گئی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ اس منصوبے کی ناکامی کے اثرات شہر کی مجموعی ماحولیاتی پالیسیوں پر مرتب ہوں گے۔