LIVE
Loading Breaking News...

اسد علی طور نے این سی سی آئی اے کا نوٹس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

News Image
معروف صحافی اور ولاگر اسد علی طور نے قومی سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعاء کی گئی ہے کہ اس نوٹس کو کالعدم قرار دے کر غیر قانونی قرار دیا جائے۔
اسلام آباد: معروف صحافی اور ولاگر اسد علی طور نے جمعرات کے روز قومی سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل این سی سی آئی اے نے صحافی کو مبینہ طور پر جھوٹی یا فرضی معلومات کی ترسیل اور عوامی سطح پر نمائش کے الزام میں ایک انکوائری کے سلسلے میں نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس میں صحافی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اکیس جولائی کو صبح گیارہ بجے اسلام آباد میں واقع این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہوں۔ یہ آئینی درخواست ایڈوکیٹ عطااللہ کنڈی کے توسط سے دائر کی گئی ہے جس میں سیکریٹری داخلہ، این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی کوئی تفصیلی تفصیل فراہم کی گئی۔ پٹیشن میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عالیہ این سی سی آئی اے کے اس نوٹس کو معطل کرے اور ایجنسی کو ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے روکے۔ واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے اپنے نوٹس میں انتباہ کیا تھا کہ قانونی عذر کے بغیر حاضر نہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اپنا دفاع پیش کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں انکوائری آگے بڑھائی جائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان جمعہ کے روز اس درخواست پر سماعت کریں گے۔ اس پیشرفت سے ایک روز قبل نیشنل پریس کلب نے بھی این سی سی آئی اے کے نوٹس کی شدید مذمت کی تھی اور ملک میں پریس کی آزادی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ پریس کلب کی قیادت کا کہنا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی آئینی حق ہے اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی یا تنقیدی خیالات کے اظہار پر صحافیوں کو قانونی دباؤ یا انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔ نیشنل پریس کلب نے اداروں پر زور دیا تھا کہ وہ قانون، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا تھا کہ پریس کی آزادی کو محدود کرنے اور صحافتی برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے والے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ خیال رہے کہ اسد علی طور کو اس سے قبل سال دو ہزار چوبیس میں بھی مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف منفی مہم چلانے کے الزام میں پیکا کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس پر میڈیا برادری کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی اور بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ موجودہ قانونی جنگ میں جہاں ایک طرف صحافتی تنظیمیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سراپا احتجاج ہیں، وہیں عدالت کی آئندہ کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں کہ اس معاملے میں قانون کا کیا رخ طے ہوتا ہے۔