LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی نگرانی کے خلاف ڈی فلاک مہم اور عوامی تحفظ

News Image
ڈی فلاک مہم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے شہریوں کی بڑھتی ہوئی نگرانی کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس ہفتہ وار احتجاج میں ٹیکنالوجی کے غیر اخلاقی استعمال کے خلاف عوامی شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ نگرانی کے نظام بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کی نجی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اسی تناظر میں 'ڈی فلاک' (DeFlock) نامی ایک نئی مہم نے جنم لیا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ریاستی اور نجی اداروں کی جانب سے کی جانے والی نگرانی کے خلاف میدان میں اتر آئی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے عمل کو روکا جائے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شفافیت کا پابند بنایا جائے۔ حالیہ ہفتہ وار احتجاجی سرگرمیوں کے دوران دنیا بھر کے کارکنان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اے آئی پر مبنی نگرانی کے آلات، خاص طور پر چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر، اکثر غلطیاں کرتے ہیں جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس مہم کے شرکاء کا ماننا ہے کہ اے آئی نگرانی کا نظام نہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرتی تفریق کو بھی بڑھا رہا ہے۔ مختلف شہروں میں کیے جانے والے مظاہروں میں کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے اپنی کارروائیوں میں شفافیت لائیں۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے جرائم کی پیش گوئی یا مشتبہ افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے، وہاں اکثر امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ڈی فلاک مہم کے تحت منعقدہ اجلاسوں اور ورکشاپس میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کے اس بے لگام استعمال کو قانونی دائرہ کار میں نہ لایا گیا تو یہ مستقبل میں جمہوریت اور عوامی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے اس مہم کا لائحہ عمل انتہائی واضح ہے، جس میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نگرانی کرنے والے آلات کی تنصیب اور ان کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کی جانچ پڑتال کے لیے آزادانہ نگرانی کے ادارے قائم کیے جائیں۔ ڈی فلاک ہفتہ احتجاج نے عالمی سطح پر ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ناقدین یکجا ہو گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کی عوامی تحریکیں پالیسی سازوں کو مجبور کریں گی کہ وہ عوامی تحفظ اور تکنیکی جدت کے درمیان ایک توازن قائم کریں، تاکہ ٹیکنالوجی انسانوں کی خدمتگار رہے نہ کہ ان کی آزادی کو سلب کرنے کا آلہ کار بنے۔