LIVE
Loading Breaking News...

تسمانیہ مینگنیز سمیلٹر: برطانوی فرم کا حصول کا ارادہ

News Image
برطانیہ کی ایک گرین ٹیکنالوجی کمپنی آسٹریلیا کی واحد مینگنیز الائے سمیلٹر کو خریدنے کے لیے کوشاں ہے۔ کمپنی نے حکومتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم صنعتی تنصیب کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
برطانیہ کی ایک گرین ٹیکنالوجی فرم نے آسٹریلیا کی واحد مینگنیز الائے سمیلٹر کو خریدنے کے لیے اپنی دلچسپی کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔ یہ سمیلٹر فی الحال لیکویڈیشن کے عمل سے گزر رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعت اور ملازمین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ برطانوی فرم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ تنصیب نہ صرف مقامی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ مستقبل کی سبز توانائی اور صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی ریاستی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اثاثے کو بچانے کے لیے عملی تعاون فراہم کریں۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کمپنی کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اس سمیلٹر کو دوبارہ فعال کر دیا جائے تو یہ آسٹریلیا کی صنعتی سپلائی چین کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ گرین ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والی اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ جدید تکنیکوں کے ذریعے اس سمیلٹر کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے، جس سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ماحولیاتی معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ تاہم، اس حصول کے عمل میں حکومتی پالیسیوں اور ضوابط کی شفافیت ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، مقامی حکومتی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا اس سمیلٹر کو نجی شعبے کے حوالے کرنا سودمند ہوگا یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت فیصلہ نہ کیا تو یہ صنعتی تنصیب ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں بے روزگاری میں اضافہ متوقع ہے۔ برطانوی کمپنی کے حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ حکومتی سطح پر ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ تسمانیہ میں واقع یہ سمیلٹر طویل عرصے سے مینگنیز الائے کی پیداوار کا مرکز رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برطانوی کمپنی کی پیشکش قبول کر لی جاتی ہے تو یہ آسٹریلیا کی بھاری صنعت میں نئی روح پھونکنے کے مترادف ہوگا۔ موجودہ لیکویڈیشن کا عمل جہاں بحران کی علامت ہے، وہیں اس حصول کی کوشش نئی امیدیں بھی جگا رہی ہے۔ عالمی منڈی میں مینگنیز کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس سمیلٹر کا دوبارہ فعال ہونا آسٹریلوی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔