Education
اسکولوں میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال: والدین کے خدشات اور تعلیمی اثرات
آسٹریلیا میں والدین کی جانب سے پرائمری اسکولوں میں پین اور پیپر کے روایتی تعلیمی نظام کو بحال کرنے کے لیے مہم شروع کر دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو ڈیجیٹل آلات سے پاک کرنے کے اقدام کے غیر متوقع نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔
آسٹریلیا میں حالیہ دنوں میں والدین کی ایک بڑی تعداد نے پرائمری اسکولوں کو ’ڈیوائس فری‘ بنانے کے لیے ایک باضابطہ مہم شروع کر دی ہے۔ والدین کا ماننا ہے کہ اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹس کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینوں کے بجائے بچوں کو پین اور پیپر کے ذریعے سیکھنے کے روایتی انداز کی طرف واپس لایا جانا چاہیے تاکہ ان کی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی نشوونما کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ تحریک خاص طور پر ان والدین کی طرف سے سامنے آئی ہے جو اپنے بچوں کے اسکرین ٹائم میں اضافے اور تعلیمی نتائج میں گراوٹ کو لے کر فکرمند ہیں۔
تاہم، ماہرین تعلیم نے اس مطالبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی تبدیلیاں غیر متوقع نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی سے مکمل لاتعلقی بچوں کو مستقبل کی ضروریات کے لیے غیر تیار بنا سکتی ہے۔ اگر پرائمری سطح پر ڈیجیٹل آلات کا استعمال یکسر ختم کر دیا گیا، تو بچے ڈیجیٹل لٹریسی اور جدید ٹولز کے استعمال میں اپنے ہم عصروں سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی بذات خود بری نہیں ہے، بلکہ اس کا غلط یا بے جا استعمال اصل مسئلہ ہے جسے بہتر پالیسیوں اور نگرانی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
اس بحث کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ آیا اسکولوں کو واقعی مکمل طور پر ڈیجیٹل آلات سے پاک ہونا چاہیے یا پھر ایک متوازن تعلیمی ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ کلاس روم میں ٹیکنالوجی کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ تنقیدی سوچ پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ والدین کی طرف سے شروع کی گئی یہ مہم اب ایک قومی بحث کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں اساتذہ، ماہرینِ نفسیات اور پالیسی ساز ادارے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ حتمی فیصلہ حکومت اور تعلیمی بورڈز پر منحصر ہے کہ آیا وہ روایتی تعلیمی طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتے ہیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل آلات کے بغیر تعلیم کا حصول مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ والدین کے خدشات اپنی جگہ جائز ہیں کیونکہ بچوں کی ذہنی صحت اور توجہ کی کمی کے مسائل سنگین ہیں، لیکن اس کا حل شاید مکمل پابندی کے بجائے اسکرین ٹائم کا ایک محدود اور تعلیمی حد تک استعمال ہی ہو سکتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں اسکولوں کو اپنے نصاب اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو طلباء کی تعلیمی کامیابی اور ان کی ذہنی صحت دونوں کا ضامن ہو۔