LIVE
Loading Breaking News...

کیوبا پر امریکی پابندیاں: معیشت کو شدید دھچکا

News Image
امریکہ نے کیوبا کی معاشی صورتحال کو مزید دباؤ میں لانے کے لیے کان کنی اور تعمیراتی صنعتوں پر نئی اقتصادی پابندیاں لگا دی ہیں۔ ان اقدامات سے پہلے ہی بحران کا شکار کیوبا کی معیشت کے مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں نے جزیرے کی پہلے سے کمزور معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین حکم نامے کے تحت کیوبا کے کان کنی اور تعمیراتی شعبوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد حکومتی وسائل تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ ان پابندیوں کے بعد کیوبا میں صنعتی سرگرمیوں کے سست پڑ جانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مزید انخلاء کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں بے روزگاری اور مالی بحران کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیوبا پہلے ہی بجلی کے طویل تعطل، ایندھن کی قلت اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی کمی جیسے مسائل سے نبردآزما ہے۔ ان نئی امریکی پابندیوں کے نتیجے میں طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی تجارتی لین دین میں مشکلات کے باعث درآمدات کا سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عام شہریوں کو روزمرہ زندگی کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے، جہاں بجلی کی مسلسل بندش نے صحت اور تعلیم کے شعبوں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی ان پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے براہ راست عام عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب کیوبن حکام نے ان پابندیوں کو ایک غیر منصفانہ معاشی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف کیوبا میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ کیوبا کی قیادت کا موقف ہے کہ دہائیوں سے جاری یہ اقتصادی ناکہ بندی ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس سے صرف غریب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ حکمت عملی جہاں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے، وہیں یہ خطے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش بھی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں کیوبا کی معیشت کا مزید تنزلی کی طرف جانا یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ مستقبل قریب میں ان پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر کیوبا اپنے اتحادی ممالک کی جانب سے مدد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے انتہائی سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ پابندیاں کیوبا کی موجودہ سیاسی و معاشی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی لا سکیں گی یا یہ محض جزیرے پر موجود انسانی بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنیں گی۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان تعلقات کو انتہائی کشیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔