LIVE
Loading Breaking News...

تبتی باشندوں کا چین کے خلاف احتجاج، سر منڈوا کر شدید ردعمل

News Image
بھارت میں مقیم سینکڑوں تبتی جلاوطن افراد نے چین کے متنازعہ نسلی اتحاد کے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سر منڈوا کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون تبتی ثقافت اور شناخت کو ختم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مقیم سینکڑوں جلاوطن تبتی باشندوں نے چین کی جانب سے نافذ کیے گئے متنازعہ ’نسلی اتحاد‘ کے قانون کے خلاف ایک منفرد اور پرزور احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں تبتی افراد نے اپنے سر منڈوا لیے، جو کہ چین کی پالیسیوں کے خلاف ان کے گہرے غم و غصے اور مزاحمت کی علامت ہے۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ حکومت اس قانون کے ذریعے تبت کی منفرد ثقافتی شناخت، مذہبی روایات اور زبان کو ختم کر کے اسے چینی ثقافت میں ضم کرنا چاہتی ہے۔ احتجاج میں شریک مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر چین کے اقدامات کی مذمت کی گئی تھی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ قانون دراصل تبتی عوام کی آزادی اور ان کی نسلی شناخت پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ چین پر دباؤ ڈالیں تاکہ تبت میں جاری ثقافتی جبر کو روکا جا سکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سر منڈوانے کا عمل ان کے لیے ایک قربانی کی حیثیت رکھتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی ثقافتی میراث کا دفاع کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی جانب سے تبت میں ’نسلی اتحاد‘ کے نام پر جو قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، ان کا مقصد خطے میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا ہے۔ ان قوانین کے تحت تبتی بچوں کو چینی زبان میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور مقامی مذہبی رسومات کو محدود کیا جا رہا ہے۔ جلاوطن تبتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں تبت کے تشخص کو مٹانے کا ایک حصہ ہیں، جس کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ نئی دہلی میں ہونے والے اس مظاہرے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر تبت کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اگرچہ چین ان تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اسے اپنے ملک کا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے، لیکن جلاوطن تبتیوں کا یہ احتجاج دنیا بھر میں ایک پیغام ہے کہ وہ اپنی شناخت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا کہ جب تک چین اپنی جبر کی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتا، ان کا پرامن احتجاج مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔