World
لبنان جنگ: ریسکیو ورکرز کی مشکلات اور انسانی المیے
لبنان کے محاذ جنگ پر فرسٹ ریسپانڈرز کو شدید مشکلات اور انسانی المیوں کا سامنا ہے۔ ایک مقامی ریسکیو ورکر کی کہانی ان کے جذبے اور میدانِ جنگ کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
لبنان کی سرحدوں پر جاری موجودہ کشیدگی اور جنگی صورتحال نے جہاں عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، وہیں ان علاقوں میں کام کرنے والے فرسٹ ریسپانڈرز اور امدادی کارکنوں کے لیے بھی حالات انتہائی دکھی کر دینے والے ہیں۔ ایک مقامی ریسکیو ورکر کی کہانی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح یہ جانباز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ ان کے لیے ہر ایک کال زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے، جبکہ مسلسل گولہ باری اور فضائی حملوں کے سائے میں کام کرنا ان کے اعصاب کا کڑا امتحان ہے۔
اس ریسکیو ورکر کے مطابق، جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں تو وہاں کا منظر انتہائی دلخراش ہوتا ہے۔ تباہ شدہ عمارتیں، ملبے کا ڈھیر اور پیاروں کو کھونے والوں کی چیخ و پکار ان کے دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات انہیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں وہ کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کو ملبے تلے دبے ہوئے پاتے ہیں، تاہم اپنے فرائض کی انجام دہی کے جذبے کے تحت وہ جذباتی صدمے کو ایک طرف رکھ کر فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ ناقابل بیان دکھ ہے جو شاید صرف ایک فرسٹ ریسپانڈر ہی محسوس کر سکتا ہے۔
جنگ کے ان تاریک دنوں میں، فرسٹ ریسپانڈرز کی زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ سڑکوں پر گڑھے، بند راستے اور مسلسل جاری رہنے والی لڑائی ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے باوجود، یہ لوگ بغیر کسی خوف کے اپنے انسانی مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریسکیو ورکر کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف انسانی جانوں کا تحفظ ہے، چاہے حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بیچ انسانیت ابھی زندہ ہے اور کچھ لوگ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کے آنسو پونچھنے کے لیے میدان میں کھڑے ہیں۔