LIVE
Loading Breaking News...

نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا نیا محفوظ ورژن متعارف

News Image
اوپن اے آئی نے نوعمر صارفین کے لیے ایک محفوظ اور عمر کے لحاظ سے موزوں چیٹ جی پی ٹی ورژن متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک بہتر اور محفوظ رسائی فراہم کرنا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے میدان میں معروف کمپنی اوپن اے آئی نے منگل کے روز ایک ایسی پیش رفت کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں موجود نوعمر طلباء و طالبات کو ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ کمپنی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کا ایک خصوصی ورژن متعارف کرایا گیا ہے جو خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو پہلے ہی اپنی تعلیمی سرگرمیوں، اسکول کے کاموں اور روزمرہ کے سوالات کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کا ماننا ہے کہ نوجوان نسل وہ پہلی نسل ہے جو مصنوعی ذہانت کے دور میں پروان چڑھ رہی ہے، اس لیے ان کی ضروریات کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ اس نئے ورژن کی سب سے اہم خصوصیت اس کا 'عمر کے لحاظ سے موزوں' ہونا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق، اس چیٹ بوٹ میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو غیر مناسب مواد کو فلٹر کرتے ہیں، تاکہ نوجوان صارفین کسی بھی ایسی معلومات تک رسائی حاصل نہ کر سکیں جو ان کی عمر کے لحاظ سے غیر مناسب یا خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ ورژن خاص طور پر اس بات پر توجہ مرکوز کرتا ہے کہ طلباء اسے سیکھنے کے عمل میں بطور معاون کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔ کمپنی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تعلیمی معاونت کے دوران یہ سسٹم اخلاقی حدود کا احترام کرے اور طلباء کو اپنی تنقیدی سوچ بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی تعلیمی میدان میں انقلاب لا سکتی ہے۔ ماضی میں طلباء کو معلومات کے حصول کے لیے صرف روایتی کتب یا سرچ انجنز پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن اب چیٹ جی پی ٹی کا یہ ورژن ان کے لیے ایک نجی ٹیوٹر کی طرح کام کرے گا۔ تاہم، اس اقدام کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈیٹا پرائیویسی اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کے لیے بھی یہ ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ اب وہ ایک کنٹرولڈ ماحول میں بچوں کو ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دے سکیں گے۔ آخر میں، اوپن اے آئی کی جانب سے یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف کارپوریٹ سیکٹر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی جڑیں نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت میں گہری ہوں گی۔ کمپنی مستقبل میں بھی اس ورژن میں مزید بہتری لانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اسے مزید محفوظ اور مفید بنایا جا سکے۔ نوعمر صارفین اب زیادہ اعتماد اور تحفظ کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اپنے علمی سفر کو جاری رکھ سکیں گے، جس سے آنے والے وقت میں تعلیمی معیار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔