Technology
اوپن اے آئی: نوعمر بچوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا محفوظ اور ذمہ دار ورژن
اوپن اے آئی نے نوعمر صارفین کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا ایک خصوصی ورژن پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال میں بچوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
مشہور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے مقبول چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کا ایک ایسا ورژن تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خاص طور پر نوعمر صارفین کی ضروریات اور حفاظت کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد بچوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے دوران نقصان دہ مواد، نامناسب گفتگو اور غلط معلومات سے محفوظ رکھنا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ بچے چیٹ بوٹ کے ساتھ کسی قسم کے جذباتی تعلقات قائم کریں یا اس پر انحصار کریں، اس لیے اس ورژن میں کئی حفاظتی فلٹرز شامل کیے گئے ہیں۔
نئے فیچرز کے تحت اوپن اے آئی نے ایسی ہدایات نافذ کی ہیں جو چیٹ بوٹ کو اس بات سے روکیں گی کہ وہ بچوں کے ساتھ غیر ضروری یا ذاتی نوعیت کی گہری گفتگو کرے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ نوعمروں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ بغیر کسی خطرے کے معلومات حاصل کر سکیں۔ اس ورژن میں والدین کی نگرانی کے لیے بھی بہتر کنٹرولز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ ان کے بچے کس قسم کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کا یہ قدم آرٹیفیشل انٹیلی جنس انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے قبل اے آئی چیٹ بوٹس پر تنقید کی جاتی رہی تھی کہ وہ بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، لیکن اب نئی پالیسیوں کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کمپنی مستقبل میں مزید ایسے ٹولز متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے جو تعلیمی اور معلوماتی مقاصد کے لیے تو مفید ہوں گے، لیکن ان کی حدود کو متعین رکھا جائے گا تاکہ نوعمر صارفین اپنی حقیقت پسندانہ زندگی میں مشغول رہ سکیں۔
اس پیش رفت کے ساتھ اوپن اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ کسی قسم کے ذہنی الجھاؤ یا تنہائی کا سبب بننا چاہیے۔ یہ نیا چیٹ جی پی ٹی ورژن نہ صرف بچوں کی ڈیجیٹل تعلیم میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ یہ آن لائن دنیا میں ذمہ دارانہ رویوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے مزید حفاظتی پہلوؤں کو بھی منظر عام پر لایا جائے گا تاکہ دنیا بھر کے صارفین بالخصوص والدین کو اس پر مکمل اعتماد حاصل ہو۔