LIVE
Loading Breaking News...

راکوتن اور ہیلسنگ کا اشتراک: جاپان کے لیے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری

News Image
جاپان کی معروف ای کامرس کمپنی راکوتن نے جرمنی کے ایک اسٹارٹ اپ کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے تاکہ جدید فوجی ڈرون تیار کیے جا سکیں۔ اس اشتراک کا مقصد جاپانی فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
جاپان کی مشہور ای کامرس اور ٹیکنالوجی کمپنی 'راکوتن' نے حال ہی میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے جرمنی کے معروف دفاعی اسٹارٹ اپ 'ہیلسنگ' کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد جدید ترین فوجی ڈرونز کی تیاری اور انہیں جاپانی دفاعی نظام میں شامل کرنا ہے۔ یہ پیشرفت جاپان کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ عالمی دفاعی منڈی میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، راکوتن اس معاملے میں ہیلسنگ کو جاپان کے پیچیدہ فوجی حصولی کے نظام (procurement system) کو سمجھنے اور مقامی مارکیٹ میں قدم جمانے کے لیے مدد فراہم کر رہی ہے۔ جاپان کے فوجی حکام پہلے ہی ہیلسنگ کے تیار کردہ 'ایچ ایکس-2' (HX-2) اسٹرائیک ڈرون کے ٹرائلز شروع کر چکے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کمپنیاں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر پیداوار کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ یہ ڈرونز جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ہیں جو میدانِ جنگ میں اہداف کی نشاندہی اور درستگی کے ساتھ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اشتراک کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ جاپان اپنی طویل المدتی دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہا ہے تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ راکوتن کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ جاپانی نجی کمپنیاں اب دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر 'ایچ ایکس-2' ڈرونز کے یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو جاپان اپنی عسکری قوت میں ایک نمایاں تکنیکی برتری حاصل کر لے گا۔ ہیلسنگ کے لیے یہ شراکت داری ایشیائی مارکیٹ میں اپنی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگی، جبکہ راکوتن اپنے کاروباری دائرہ کار کو ای کامرس سے بڑھا کر دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں منتقل کر رہی ہے۔ مستقبل میں یہ اقدام جاپان کی دفاعی خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔