LIVE
Loading Breaking News...

فنٹیک انڈسٹری کے لیے ری یوزایبل سرٹیفیکیشن فریم ورک متعارف

News Image
بینکنگ کے شعبے میں ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک نئے اور مشترکہ سرٹیفیکیشن فریم ورک پر کام جاری ہے۔ اس اقدام سے بینکوں کے لیے بار بار دہرائی جانے والی جانچ پڑتال کے عمل میں وقت اور وسائل کی بچت ہوگی۔
بینکنگ کے شعبے میں ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں (فنٹیک) کی جانچ پڑتال اب ایک نیا موڑ لینے جا رہی ہے جس سے مالیاتی اداروں کے لیے کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، ہر بینک اپنی داخلی پالیسیوں کے تحت ان کمپنیوں کی انفرادی سطح پر جانچ پڑتال (Due Diligence) کرتا ہے، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اس سے وسائل کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ تاہم، اب ایک ایسی نئی صنعت کارانہ حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کے لیے ایک 'ری یوزایبل' یا دوبارہ قابل استعمال سرٹیفیکیشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد اس عمل کو معیاری بنانا ہے تاکہ ایک دفعہ کی گئی تصدیق کو مختلف بینک اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکیں۔ اس نئے فریم ورک کی تفصیلات 21 جولائی کو جاری کردہ ایک مسودے (Draft Term Sheet) میں نمایاں کی گئی ہیں، جس میں وفاقی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ریگولیٹرز اور نجی بینکنگ سیکٹر اس مشترکہ معیار پر متفق ہو جاتے ہیں، تو یہ ٹیکنالوجی کی تعیناتی اور ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی لانے کا باعث بنے گا۔ اس فریم ورک کے تحت ہر فراہم کنندہ کمپنی کو ایک بار سخت حفاظتی اور ضابطہ کار کے معیارات سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد انہیں ایک سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جو دیگر مالیاتی اداروں کے لیے بھی قابل قبول ہوگا۔ اس تبدیلی سے بینکوں کو ٹیکنالوجی وینڈرز کی جانچ پڑتال کے لیے بار بار ایک ہی طرح کی طویل اور پیچیدہ رپورٹس تیار نہیں کرنی پڑیں گی۔ اس سے نہ صرف بینکوں کی آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ فنٹیک کمپنیوں کے لیے بھی اپنے حل کو تیزی سے مارکیٹ میں متعارف کرانا آسان ہو جائے گا۔ تاہم، اس پورے عمل میں ڈیٹا سیکیورٹی اور وفاقی قواعد و ضوابط کی پاسداری سب سے اہم چیلنج ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ اقدام آنے والے وقت میں بینکنگ سیکٹر کو مزید جدید اور مربوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل مالیاتی ماحولیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔