World
امریکی یونیورسٹیوں کے غیر ملکی تعلیمی معاہدوں کی چھان بین شروع
امریکی محکمہ دفاع نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر 30 یونیورسٹیوں کو چین سمیت دیگر غیر ملکی اداروں کے ساتھ شراکت داری کا آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان تعلیمی رابطوں کی چھان بین کرنا ہے جو ممکنہ طور پر امریکی سیکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک انتہائی اہم اقدام اٹھاتے ہوئے امریکہ کی 30 ممتاز یونیورسٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر ملکی یونیورسٹیوں اور فوجی تربیتی اداروں کے ساتھ اپنی شراکت داری کا فوری اور سخت آڈٹ کریں۔ حکام کا ماننا ہے کہ کچھ تعلیمی معاہدے اور تحقیقی تعاون ایسے ہیں جو بالواسطہ طور پر امریکی ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر ان تعلیمی اداروں کے ساتھ جو چین کے فوجی نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے اس 'زیرو ٹالرنس' پالیسی کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا ان تعلیمی شراکت داریوں کے ذریعے امریکی ٹیکنالوجی یا حساس معلومات غیر ملکی طاقتوں تک تو نہیں پہنچ رہیں۔
اس فیصلے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے فنڈنگ ذرائع، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور طلباء و اساتذہ کے تبادلے کے پروگراموں کی شفافیت کو یقینی بنائیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ تعلیمی آزادی کے نام پر قومی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور خلائی تحقیق جیسے حساس شعبوں میں چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون اب شدید جانچ پڑتال کے عمل سے گزرے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس پیش رفت کو ایک ایسے حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ان تمام راستوں کو بند کرنا ہے جن سے امریکی عسکری برتری کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آڈٹ امریکی تعلیمی اداروں اور غیر ملکی پارٹنرز کے درمیان برسوں سے قائم تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی یونیورسٹیوں کو اب اپنے مالیاتی اور سائنسی معاہدوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی تاکہ وہ پینٹاگون کی جانب سے مقرر کردہ معیارات پر پورا اتر سکیں۔ اگر کسی بھی یونیورسٹی کے شراکت داروں میں سیکورٹی رسک پایا گیا تو ان معاہدوں کو فوری طور پر منسوخ یا محدود کر دیا جائے گا۔ اس سخت گیر موقف نے تعلیمی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں یونیورسٹیوں کا کہنا ہے کہ وہ تحقیق کے فروغ اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گی۔ تاہم، پینٹاگون نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور آنے والے دنوں میں اس آڈٹ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔