Technology
ایمازون کی ڈرون ڈلیوری سروس میں بڑی توسیع کا فیصلہ
ایمازون کمپنی نے اپنی جدید پرائم ایئر ڈرون ڈلیوری سروس کو امریکہ کی مزید ریاستوں تک پھیلانے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ یہ سروس اب تک محدود علاقوں میں کامیابی سے کام کر رہی تھی، تاہم اب اسے وسیع پیمانے پر وسعت دی جا رہی ہے۔
ای کامرس کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ایمازون نے اپنے ایک اہم اعلان میں پرائم ایئر ڈرون ڈلیوری سروس کو نمایاں طور پر وسیع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گھریلو اشیاء کی ترسیل کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال یہ سروس امریکہ کی مختلف ریاستوں بشمول ایریزونا، فلوریڈا، کنساس، لوزیانا، مشی گن، نیبراسکا اور ٹیکساس کے مخصوص شہروں میں فعال ہے جہاں صارفین ڈرون کے ذریعے آرڈر کردہ سامان وصول کر رہے ہیں۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق، ڈرون ڈلیوری سروس کا بنیادی مقصد صارفین کو کم سے کم وقت میں ان کی دہلیز تک سامان پہنچانا ہے۔ اس توسیعی پروگرام کے تحت ایمازون اپنی جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کو مزید بہتر اور محفوظ بنائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی تک اس جدید سہولت کی رسائی ممکن ہو سکے۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تجرباتی بنیادوں پر کی جانے والی ڈیلیوریز کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، جس کی وجہ سے کمپنی اب اسے ایک تجارتی پیمانے پر پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ڈرون ڈلیوری کی اس سروس میں سب سے اہم بات 'سپیڈ' اور 'حفاظت' ہے۔ ایمازون کے ڈرونز کو جدید ترین سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ شہری ماحول میں رکاوٹوں کو پہچان کر خودکار طریقے سے اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔ کمپنی کو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈرون ڈلیوری سروس ان کی سپلائی چین کا ایک لازمی حصہ بن جائے گی، جس سے نہ صرف ترسیل کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک کے مسائل اور کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون کا یہ قدم ای کامرس کی صنعت میں مقابلہ بازی کو مزید بڑھائے گا۔ اگرچہ ریگولیٹری تقاضے اور فضائی حدود کے قوانین اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں چیلنجز پیدا کرتے ہیں، لیکن ایمازون حکام مسلسل حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ تمام تر حفاظتی معیارات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس توسیع کے بعد امید ہے کہ ایمازون کے صارفین کو آنے والے وقت میں اپنی خریداری پر پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور جدید ترسیلی سہولیات میسر آئیں گی۔