Politics
فوجی اہلکاروں کے لیے رہائشی منصوبے اور نئی بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کا اعلان
وفاقی حکومت نے ابوجا میں فوجی اہلکاروں کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے 600 مزید گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی حکومت نے ملکی بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی نظر ثانی شدہ پالیسی بھی اپنائی ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے تحت ملک کے دفاعی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے رہائشی سہولیات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کی جانب سے ابوجا میں فوجی اہلکاروں کے لیے 600 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اس نئے اقدام کے بعد یہاں مکمل ہونے والے گھروں کی مجموعی تعداد 2,656 تک پہنچ گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ 10 ہزار ہاؤسنگ یونٹس کے اس وسیع تر ہدف کا حصہ ہے جس کا مقصد فوج کے جوانوں اور افسران کو ان کی خدمات کے عوض معیاری رہائش کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم مسلح افواج کے اہلکاروں کے مورال کو بلند کرنے اور انہیں درپیش رہائشی مسائل کے دیرپا حل کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
رہائشی منصوبے کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے ملک میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے نظر ثانی شدہ بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک کے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق، جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی نہ صرف مقامی سطح پر سائنسی صلاحیتوں کو نکھارے گی بلکہ زرعی، طبی اور صنعتی شعبوں میں بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید موثر بنائے گی۔ حکومت اس پالیسی کے ذریعے نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے اور عالمی معیار کی تحقیقی سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔
ملکی معیشت اور معاشرتی فلاح و بہبود کے تناظر میں یہ دونوں فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک جانب جہاں رہائشی منصوبے سے ہزاروں خاندانوں کو چھت میسر آئے گی، وہیں دوسری جانب بائیو ٹیکنالوجی پالیسی میں ترامیم سے مستقبل میں ملکی صنعتی پیداوار اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور مقررہ وقت کے اندر ان اہداف کو حاصل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ ہماری حکومت ملک کے ہر طبقے کی فلاح اور سائنسی ترقی کے لیے پرعزم ہے تاکہ ایک مستحکم اور جدید پاکستان کی تعمیر ممکن ہو سکے۔