LIVE
Loading Breaking News...

ایئر باس آف امریکہ کی جانب سے آڈیٹر تبدیل کرنے کا فیصلہ

News Image
ایئر باس آف امریکہ کارپوریشن نے کے پی ایم جی ایل ایل پی کے استعفے اور نئے آڈیٹر کی تقرری کے عمل کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ یہ تبدیلی کمپنی کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
نیو مارکیٹ، اونٹاریو میں قائم معروف کمپنی ایئر باس آف امریکہ کارپوریشن (TSX: BOS) نے حال ہی میں اپنے مالیاتی ڈھانچے اور انتظامی معاملات میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، کے پی ایم جی ایل ایل پی (KPMG) نے کمپنی کے آڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کا اطلاق اگست کے وسط سے ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی اپنی درخواست پر عمل میں لایا گیا ہے اور انتظامیہ نے اسے معمول کی کارپوریٹ تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تبدیلی کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہے اور مالیاتی رپورٹنگ کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔ آڈیٹر کی تبدیلی کسی بھی عوامی کمپنی کے لیے ایک اہم عمل ہوتا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو برقرار رکھنا اور کمپنی کے مالیاتی امور کو بہتر بنانا ہے۔ ایئر باس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی نئے آڈیٹر کا انتخاب کریں گے جو مستقبل میں کمپنی کے مالیاتی گوشواروں کی نگرانی کرے گا۔ اس فیصلے کے بعد مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایئر باس کی جانب سے یہ اقدام کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد گورننس کے معیارات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ کمپنی کے سرمایہ کاروں کو اس تبدیلی کے بارے میں بروقت مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔ ایئر باس آف امریکہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ آڈیٹر کی تبدیلی کا عمل مکمل طور پر ضابطہ اخلاق کے مطابق ہوگا اور اس سے کمپنی کی آپریشنل کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ایئر باس آف امریکہ اپنے نئے آڈیٹر کے نام کا اعلان کرے گی، جس کے بعد کمپنی اپنے معمول کے مالیاتی آڈٹ اور دیگر تعمیلی امور کو جاری رکھے گی۔ کمپنی کی قیادت نے اپنے شیئر ہولڈرز کو یقین دلایا ہے کہ وہ شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کے اعلیٰ ترین معیارات پر کاربند رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ تبدیلی کمپنی کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگی، جس سے مستقبل میں مالیاتی شفافیت کے مزید شفاف ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔