Politics
پی پی پی اور ن لیگ میں کشیدگی، بلاول کا کڑا تنقید
آزاد کشمیر کے انتخابات کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آگئی ہے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ ن (ن لیگ) کے درمیان سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک دوسرے پر شدید تنقید کے تیر برسائے۔ تازہ ترین بیان بازی کے دوران پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں فارم 47 کی پیداوار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گی اور کسی بھی ناانصافی کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کی ہیں، جس پر دونوں اطراف سے دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی سطح پر اتحادی ہونے کے باوجود دونوں جماعتوں کا صوبائی اور علاقائی سطح پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنا سیاسی عدم استحکام کی علامت ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے باقی ماندہ انتخابات میں بھرپور سیاسی مقابلہ کریں گے اور اپنے ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ دوسری جانب ن لیگ کے رہنماؤں نے بھی بلاول بھٹو کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس وقت ملک کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان مزید سیاسی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، جس سے حکومت کی کارکردگی پر بھی اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔