LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں جاری

News Image
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں جس سے ملک بھر میں تیل کی تقسیم کا نیا نظام شروع ہو چکا ہے۔
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 27 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 64 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کے حوالے سے بھی خبریں زیر گردش رہی تھیں، جس کے تحت ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 30 سے 32 روپے تک کی بڑی کمی کی گئی تھی۔ حکومتی فارمولے کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لیٹر تک کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس نے صارفین کو بڑی ریلیف فراہم کی تھی۔ تاہم موجودہ ایڈجسٹمنٹ میں معمولی اضافے کو عالمی مارکیٹ کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں تیل کی قیمتوں کا تعین ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور درآمدی اخراجات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہ راست عوام کے روزمرہ اخراجات، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مصنوعی مہنگائی نہ بڑھے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں ریفائنریز کے ساتھ مسلسل رابطے اور قیمتوں کا فارمولا اب پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب بین الاقوامی تناظر میں، متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین کو تاحکم ثانی روکنے کا فیصلہ بھی خطے کی معاشی صورتحال پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس عالمی پیش رفت کے باعث خطے میں سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کے راستوں پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔ پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، ان عالمی واقعات اور تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے براہ راست متاثر ہوتا ہے، لہذا موجودہ اضافے کو بھی عالمی منڈی کے غیر مستحکم حالات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔