LIVE
Loading Breaking News...

شہزادہ ہیری کے شاہی خاندان پر سنگین الزامات

News Image
شہزادہ ہیری نے اپنے حالیہ انٹرویو اور کتاب میں شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ولیم اور کنگ چارلس بادشاہت کے نظام میں پھنس چکے ہیں۔ اس بیان نے شاہی محل میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور مفاہمت کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن شہزادہ ہیری نے ایک بار پھر شاہی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنے بھائی شہزادہ ولیم اور والد کنگ چارلس کے بارے میں متنازعہ دعوے کیے ہیں۔ شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ شاہی محل کے سخت قوانین اور ذمہ داریوں نے ولیم اور کنگ چارلس کو ایک طرح سے 'قید' کر رکھا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے سے قاصر ہیں۔ یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب ہیری نے برطانیہ چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد سے شاہی خاندان اور سسیکس کے جوڑے کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ شاہی مبصرین اور قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیری کے ان بیانات نے شاہی خاندان کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر شہزادہ ولیم کے ساتھ ان کے تعلقات میں تناؤ عروج پر ہے، اور اطلاعات کے مطابق اب مفاہمت کا امکان انتہائی محدود دکھائی دیتا ہے۔ شاہی خاندان کے ایک ترجمان نے ان الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم محل کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کنگ چارلس اور ولیم دونوں ہی ہیری کے اس رویے سے سخت مایوس ہیں اور اسے شاہی روایات کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ ولیم اب اس معاملے پر کافی سخت موقف اپنا چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ مفاہمت کے لیے پہل کرنے والے شخص کو ہیری کی جانب سے مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہیری کے متنازعہ بیانات، جن میں ملکہ الزبتھ کے کردار اور شاہی زندگی کے خفیہ پہلوؤں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ شامل ہے، نے برطانوی عوام کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ ہیری کی آزادی پسند سوچ کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے شاہی اقدار کے خلاف ایک سازش قرار دیتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں بھائیوں کے درمیان برف نہیں پگھلی تو شاہی خاندان کے اندرونی بحران مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ کنگ چارلس، جو خود بھی ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، خاندان کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم ہیری کے یکے بعد دیگرے آنے والے انکشافات نے ان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ کیا آنے والے وقت میں شاہی خاندان کے یہ زخم بھر پائیں گے یا پھر یہ دوری ایک مستقل علیحدگی کی شکل اختیار کر لے گی۔