LIVE
Loading Breaking News...

اسپارک کمپنی کی نئی مالیاتی رپورٹ اور ملازمین کی برطرفی

News Image
ٹیلی کام کمپنی اسپارک نے اپنی سالانہ مالی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں منافع میں کمی کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ملازمتوں میں کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او کو بھاری بونس ملنے پر عوامی اور کاروباری حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
نیوزی لینڈ کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی 'اسپارک' نے اپنی تازہ ترین مالیاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے اعداد و شمار کمپنی کی معاشی مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کمپنی کے ایڈجسٹڈ منافع میں 0.9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد یہ 225 ملین ڈالر تک محدود رہ گیا ہے۔ اسی طرح کمپنی کی ایڈجسٹڈ آمدنی (EBITDAI) میں بھی 2.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے اور یہ 1.04 بلین ڈالر تک گر گئی ہے، جبکہ کل ایڈجسٹڈ ریونیو 3.7 بلین ڈالر پر برقرار رہا۔ ان مالیاتی نتائج نے کمپنی کے حصص یافتگان اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مالی خسارے اور مارکیٹ کے دباؤ کے پیش نظر اسپارک انتظامیہ نے ایک اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے مزید 600 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اخراجات میں کمی لانے اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر تھا۔ تاہم، ملازمین کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر ہونے والی برطرفیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کمپنی کو پہلے ہی مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، اس صورتحال کے درمیان کمپنی کے سی ای او کو 9 لاکھ ڈالر کا خطیر بونس دینے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف کمپنی ملازمین کی تعداد میں کمی کر رہی ہے اور دوسری طرف اعلیٰ قیادت کو بھاری مراعات دینے سے کارپوریٹ گورننس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے کمپنی کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں اور ملازمین کے مورال کو مزید گرا سکتے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے اسپارک انتظامیہ نے محتاط انداز اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک اور ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ آنے والے برسوں میں منافع کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی اپنے منافع کے مارجن کو بہتر بنانے میں ناکام رہی تو اسے مستقبل میں مزید مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا کمپنی کے یہ اقدامات طویل مدت میں مثبت نتائج دیں گے یا نہیں، کیونکہ ٹیلی کام انڈسٹری میں مسابقت پہلے ہی عروج پر ہے۔