LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کا قانونی مقدمہ اور ڈیجیٹل غلامی کا بحران

News Image
امریکہ میں میٹا کے خلاف شروع ہونے والا اہم مقدمہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر صارفین کی نفسیاتی وابستگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کنٹرول عوام کو ڈیجیٹل غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
امریکہ میں 18 اگست کو میٹا کے خلاف ایک انتہائی اہم وفاقی مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا، جس میں بائیس ریاستی اٹارنی جنرلز پر مشتمل ایک دو جماعتی اتحاد نے کمپنی کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ یہ مقدمہ، جس کی نمائندگی کیلیفورنیا اور کولوراڈو جیسی ریاستیں کر رہی ہیں، اس بنیادی سوال پر مرکوز ہے کہ کیا میٹا کے پلیٹ فارمز اپنی الگورتھم کی حکمت عملیوں کے ذریعے جان بوجھ کر نوجوانوں کو لت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا کاروباری ماڈل صرف اشتہارات سے کمائی پر منحصر ہے، جس کے لیے وہ صارفین کو اپنی اسکرینوں سے چمٹے رہنے پر مجبور کرنے کے لیے نفسیاتی حربے استعمال کرتی ہے۔ اس مقدمے کے دوران یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں معاشرتی اقدار کو تباہ کر رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس مقدمے کا فیصلہ میٹا پر بھاری جرمانے یا سخت ضابطہ اخلاق کی صورت میں آ سکتا ہے، تاہم اصل مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔ جدید دور کے صارفین جس طرح ٹیکنالوجی کے عادی ہو چکے ہیں، اس کے پیش نظر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صرف قانون سازی سے ڈیجیٹل غلامی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نہ صرف اپنی مرضی سے، بلکہ ایک قسم کی مجبوری کے تحت ان پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہے۔ میٹا کی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ اس نے انسانی رویوں کو سمجھ کر اسے اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے ان پلیٹ فارمز سے دوری اختیار کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین اس مقدمے کو 'ڈیجیٹل آزادی' اور 'کارپوریٹ کنٹرول' کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دے رہے ہیں۔ مقدمے کے دوران پیش کیے گئے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کمپنی کے اندرونی حکام بھی ان مضر اثرات سے آگاہ تھے مگر منافع کو ترجیح دی گئی۔ جہاں ایک طرف وکلاء کا استدلال یہ ہے کہ میٹا کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی ہوں گی، وہیں سماجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشرہ خود اپنی آزادیوں کو گروی رکھ چکا ہے۔ جب تک صارفین میں ڈیجیٹل آگاہی اور ان ٹولز کے خلاف شعوری مزاحمت پیدا نہیں ہوگی، تب تک کسی بھی عدالتی فیصلے کے باوجود عوام کی یہ نفسیاتی غلامی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ یہ مقدمہ محض ایک کمپنی کے خلاف نہیں، بلکہ پوری ڈیجیٹل صنعت کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔