World
ٹرمپ کی ایران کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کی دھمکی اور تجارتی شراکت دار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے اور اس کے تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس نئی معاشی جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی میڈیا اور ماہرین تہران کے اہم تجارتی شراکت داروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مکمل طور پر معاشی طور پر الگ تھلگ کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر نئی ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی حکام اور نامزد وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے امریکہ کے اتحادیوں اور شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کی معیشت کو دبانے اور اسے کمزور کرنے کے لیے سخت اقدامات کی حمایت کریں۔ اس حکمت عملی کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ فوجی کارروائیوں کے بجائے معاشی محاصرے کو ہتھیار بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس نئی معاشی جنگ کے اعلان کے بعد تہران کا موقف بھی سامنے آیا ہے جس میں ایرانی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی یہ معاشی جنگ ناکام ہو جائے گی۔ تہران حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے پاس اپنی معیشت کو چلانے کے متبادل راستے اور تجارتی ذرائع موجود ہیں۔
اس تناظر میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے اہم تجارتی شراکت دار کون سے ہیں جو اس مشکل وقت میں تہران کے ساتھ معاشی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جو ایرانی تیل کی بڑی مقدار خریدتا ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے چند دیگر ممالک اور بعض ایشیائی ریاستیں بھی محدود پیمانے پر ایران کے ساتھ تجارتی لین دین جاری رکھے ہوئے ہیں، جنہیں اب امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے نئی پابندیوں اور معاشی دباؤ میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے تجارتی شراکت داروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، اس کا انحصار واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدمات پر ہوگا۔