World
اٹلی کے شہر میں الیکٹرک بائیکس پر پابندی، عوامی تحفظ کا بڑا فیصلہ
اٹلی کے ایک شہر کے میئر نے الیکٹرک بائیکس سے پیش آنے والے حادثات کے پیش نظر شہر بھر میں ان کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ میئر الیساندرو راپینیسی کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی ایسی ہی ایک بائیک کی زد میں آکر زخمی ہوئے تھے۔
اٹلی کے ایک معروف شہر میں عوامی تحفظ اور سڑکوں پر حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک انتہائی سخت اقدام اٹھاتے ہوئے الیکٹرک بائیکس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان شہر کے میئر الیساندرو راپینیسی نے کیا، جن کا موقف ہے کہ شہر کی گلیوں اور شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کی حفاظت اب ان کی اولین ترجیح ہے۔ حکام کے مطابق، الیکٹرک بائیکس کی بے ہنگم رفتار اور ان کی خاموش موجودگی کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا تھا، جس کے پیش نظر یہ انتظامی فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ میئر الیساندرو راپینیسی نے اپنی اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود بھی الیکٹرک بائیک سے پیش آنے والے حادثے کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ان خوفناک سواریوں کی زد میں آنا کیسا ہوتا ہے اور یہ کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔' میئر کا یہ بیان مقامی سطح پر ایک بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں کچھ لوگ ان کی حمایت کر رہے ہیں تو کچھ اسے شہری نقل و حمل میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس پابندی کے بعد شہر میں الیکٹرک بائیکس کی خرید و فروخت اور کرائے پر چلنے والی سروسز کے لیے نئے قوانین لاگو ہوں گے۔ مقامی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام محض وقتی نہیں ہے بلکہ اسے عوامی تحفظ کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ شہر کے ٹریفک پولیس حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ اس فیصلے کا مقصد شہر کے مراکز میں پیدل چلنے والوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے، جہاں پہلے الیکٹرک بائیکس کی وجہ سے ہر وقت تصادم کا خطرہ موجود رہتا تھا۔ اگرچہ الیکٹرک بائیکس کو ماحولیاتی دوستی کے لیے فروغ دیا جا رہا تھا، تاہم اٹلی کے اس شہر میں ہونے والے حالیہ واقعات نے انتظامیہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ انسانی جانوں کی حفاظت کو کسی بھی دوسری چیز پر ترجیح دے۔ اس پابندی کے بعد شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال میں کیا بہتری آتی ہے، اس کا مشاہدہ آنے والے مہینوں میں کیا جائے گا، جبکہ دیگر اطالوی شہروں میں بھی اس فیصلے پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔