LIVE
Loading Breaking News...

ڈیمین کیوٹ اور کیلیفورنیا میں ٹریفک اصلاحات کی تحریک

News Image
ڈیمین کیوٹ، جو اسٹریٹس اے (StreetsA) کے بانی ہیں، کیلیفورنیا میں سڑکوں کی حفاظت اور نقل و حمل کے قوانین میں بہتری کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ وہ ریاستی قانون ساز اسمبلی میں اہم اصلاحات کے نفاذ کے لیے 11ویں گھنٹے کی مہم میں مصروف عمل ہیں۔
لاس اینجلس کی سڑکوں پر ٹریفک کی حفاظت اور پیدل چلنے والوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معروف سماجی کارکن اور 'اسٹریٹس اے' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیمین کیوٹ ان دنوں کیلیفورنیا کی قانون ساز اسمبلی میں ایک اہم مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ڈیمین کیوٹ کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی سڑکوں کو محفوظ بنانے اور حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اسٹریٹس بلاگ لاس اینجلس کے پوڈ کاسٹ 'ڈیمین ٹاکس' کے طویل سفر میں ان کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شہری نقل و حمل اور عوامی مقامات کی بحالی کے حوالے سے ان کا وژن کتنا گہرا ہے۔ قانون ساز اسمبلی کے حالیہ اجلاسوں میں ڈیمین کیوٹ کی سرگرمیاں خاص طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ وہ خاص طور پر '11ویں گھنٹے' کی حکمت عملی کے تحت ان قوانین کی منظوری کے لیے کوشاں ہیں جو نہ صرف ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائیں گے بلکہ کمزور طبقوں، بشمول پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کی کوشش ہے کہ ریاستی سطح پر ایسے ضوابط نافذ کیے جائیں جن سے سڑکوں کے ڈیزائن میں جدت لائی جا سکے اور حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں کو کم کیا جا سکے۔ اپنے حالیہ انٹرویوز اور عوامی بیانات میں ڈیمین کیوٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سڑکیں محض گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی برادری کے باہمی میل جول کا ذریعہ ہونی چاہئیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ سیاسی عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے، تاہم عوامی دباؤ اور مسلسل وکالت کے ذریعے پالیسی سازوں کو محفوظ سڑکوں کے بنیادی حق کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ سفر صرف ایک قانونی جدوجہد نہیں ہے بلکہ یہ شہروں کو رہنے کے قابل اور محفوظ بنانے کی ایک اجتماعی کوشش ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ آخر میں، ڈیمین کیوٹ کا کیلیفورنیا لیجسلیچر میں فعال کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ شہری حقوق کی تحریکیں تبھی کامیاب ہوتی ہیں جب ان کی قیادت ایسے پرعزم افراد کے ہاتھوں میں ہو جو ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود اپنے مشن پر کاربند رہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو قانون سازی میں کس حد تک جگہ ملتی ہے، تاہم ایک بات طے ہے کہ انہوں نے سڑکوں کی حفاظت کے مسئلے کو ریاست کے اہم ایجنڈے میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔