Business
نائجیریا میں تیل کی سرمایہ کاری اور ریگولیٹری چیلنجز پر پنگاسن کا انتباہ
پٹرولیم اینڈ نیچرل گیس سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن آف نائجیریا نے خبردار کیا ہے کہ ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال تیل کی نئی سرمایہ کاری کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ طویل منظوری کے عمل کے باعث تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافے کے اہداف متاثر ہو رہے ہیں۔
پٹرولیم اینڈ نیچرل گیس سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن آف نائجیریا (PENGASSAN) نے ملک کے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے ریگولیٹری مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور پیچیدہ قانونی منظوری کے عمل نائجیریا کے تیل اور گیس کے شعبے میں نئی غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر رہے ہیں بلکہ مستقبل میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے حکومتی منصوبوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری بیوروکریٹک رکاوٹیں اور پالیسیوں میں ابہام کی وجہ سے نئے پروجیکٹس کا آغاز التواء کا شکار ہو رہا ہے۔ موجودہ حالات میں، جہاں عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، نائجیریا جیسے تیل پیدا کرنے والے ملک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سرمایہ کاری دوست ماحول فراہم کرے۔ تاہم، موجودہ ریگولیٹری فریم ورک میں شفافیت کا فقدان سرمایہ کاروں کو دوسرے ممالک کی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جس سے نائجیریا کی اقتصادی نمو پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پنگاسن نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر ریگولیٹری عمل کو آسان بنائیں اور ان تمام قانونی رکاوٹوں کو دور کریں جو تیل کی پیداوار میں اضافے کی راہ میں حائل ہیں۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ اگر اصلاحاتی عمل کو تیز نہ کیا گیا تو تیل کی صنعت میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا فقدان پیدا ہو سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات قومی خزانے پر پڑیں گے۔ ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات صرف حکومتی پالیسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہیں، جنہیں حقیقت پسندانہ اور عملی ہونا چاہیے۔
آخر میں، ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نائجیریا اپنی عالمی مسابقتی پوزیشن کھو سکتا ہے۔ سرمایہ کار کسی بھی ملک میں اپنا پیسہ لگانے سے قبل ریگولیٹری استحکام اور شفافیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لہذا، حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دے جو ناصرف موجودہ پروجیکٹس کو تحفظ دے بلکہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے بھی راہیں ہموار کرے۔