Entertainment
موسمیاتی تبدیلی پر بننے والی دستاویزی فلم ڈگری آف سرٹینٹی کا ہالی شارٹس فیسٹیول میں چرچا
ہالی شارٹس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی مختصر فلم 'ڈگری آف سرٹینٹی' 1982 کے پس منظر میں تیل کمپنیوں کے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ڈیٹا کو چھپانے کی کہانی بیان کرتی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سچائی جاننے کے باوجود مفادات کی خاطر کارپوریٹ دنیا خاموش رہتی ہے۔
ہالی شارٹس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی سائمن شنائیڈر کی مختصر فلم 'ڈگری آف سرٹینٹی' (Degree of Certainty) نے ناظرین اور ناقدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ سولہ منٹ دورانیے کی یہ فلم ایک ایسے وقت کی عکاسی کرتی ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو سائنسی برادری تو سمجھ رہی تھی مگر طاقتور صنعتی ادارے ان حقائق کو چھپانے میں مصروف تھے۔ فلم کا مرکزی کردار جیکسن ملر ہے، جو ایک بڑی امریکی تیل کمپنی میں رسک اینالسٹ کے طور پر کام کرتا ہے، اور کہانی 1982 کے گرد گھومتی ہے، جب تیل کی صنعت اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔
فلم کی کہانی اس وقت ایک نیا موڑ لیتی ہے جب جیکسن ملر کو اپنی تحقیق کے دوران ایسے شواہد ملتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ تیل کا استعمال کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فلم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حقیقت کو جاننا اور اس کے مطابق عمل کرنا دو الگ چیزیں ہیں، خاص طور پر جب آپ کے کیریئر اور کارپوریٹ مفادات داؤ پر لگے ہوں۔ سائمن شنائیڈر نے انتہائی مہارت سے اس دور کی عکاسی کی ہے جہاں تیل کمپنیوں کے بورڈ رومز میں ماحولیاتی تحفظ کے بجائے منافع کو ترجیح دی جاتی تھی۔ یہ فلم اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ آج ہم جس موسمیاتی بحران کا شکار ہیں، اس کی جڑیں کئی دہائیوں پہلے بو دی گئی تھیں۔
فلم میں ٹریس گزمین کی اداکاری نے کردار کی کشمکش کو بخوبی اجاگر کیا ہے، جہاں ایک طرف ضمیر کی آواز ہے اور دوسری طرف کمپنی کا دباؤ۔ ہدایت کار نے اس طنزیہ پہلو کو بخوبی پیش کیا ہے کہ کس طرح ڈیٹا اور اعداد و شمار کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور سائنسی انتباہات کو ایک 'غیر یقینی' صورتحال قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ 'ڈگری آف سرٹینٹی' صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک تاریخی آئینہ ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح کارپوریٹ مفادات نے انسانیت کے مستقبل کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ یہ دستاویزی انداز کی مختصر فلم موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر بننے والی اہم ترین تخلیقات میں شمار کی جا رہی ہے۔