Technology
ناسا کی نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری کا مشن ناکام، دوربین کو خطرہ
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری کو مدار میں برقرار رکھنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ یہ اہم خلائی دوربین اب زمین کے فضا میں داخل ہو کر جل کر راکھ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے بدھ کے روز ایک مایوس کن اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 'نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری' کو زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کا مشن ناکام ہو گیا ہے۔ یہ خلائی دوربین، جو کئی سالوں سے کائنات کے دور دراز حصوں میں ہونے والے گاما رے دھماکوں کا مشاہدہ کر رہی تھی، اب اپنے آخری ایام گزار رہی ہے۔ ناسا حکام کے مطابق اس مشن کا بنیادی مقصد دوربین کی رفتار کو برقرار رکھنا اور اسے زمین کے مدار سے باہر نکلنے سے روکنا تھا، لیکن تکنیکی مسائل کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ سوئفٹ آبزرویٹری، جو نچلے زمینی مدار میں گردش کر رہی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ اپنی اونچائی کھو رہی ہے۔ جیسے جیسے یہ زمین کے ماحول کے قریب پہنچے گی، فضا کے رگڑ کی وجہ سے اس کی رفتار میں کمی آئے گی اور آخرکار یہ زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہو کر جل کر ختم ہو جائے گی۔ یہ دوربین 2004 میں لانچ کی گئی تھی اور اس نے اپنے طویل سفر کے دوران خلائی تحقیق میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ خاص طور پر کائنات کے پراسرار گاما رے برسٹس کو سمجھنے میں اس دوربین کا ڈیٹا انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
ناسا کے مطابق اس مشن کی ناکامی کے بعد اب اس دوربین کے مدار کو کنٹرول کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ایجنسی کے سائنس دان اب اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ خلائی دوربین کب اور کس طرح زمین کی فضا میں داخل ہوگی۔ اگرچہ یہ واقعہ سائنسی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، تاہم ناسا کا کہنا ہے کہ اس دوران جمع کیا گیا ڈیٹا آنے والے کئی برسوں تک خلائی تحقیق کے لیے بنیادی حیثیت رکھے گا۔
یہ پیشرفت خلائی ٹیکنالوجی کے ان مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے جو نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس کو درپیش ہوتے ہیں۔ خلائی ملبے اور دوربینوں کی طویل عمری کو یقینی بنانا خلائی ایجنسیوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری کی ممکنہ تباہی کے باوجود، ناسا کی دیگر ٹیمیں اب اس کے مشاہداتی ریکارڈ کو محفوظ بنانے اور اس سے سیکھے گئے اسباق کو مستقبل کے خلائی پروجیکٹس میں استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔