LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اسرائیل فوجی اتحاد پر امریکی ووٹرز کا ردعمل اور سروے رپورٹس

News Image
ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتی ہے۔ یہ نتائج کانگریس کے ان ارکان کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں جو اس پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔
منگل کے روز جاری ہونے والے ایک حالیہ عوامی رائے کے جائزے نے امریکی قانون سازوں کے لیے ایک واضح 'خطرے کی گھنٹی' بجا دی ہے۔ سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی ایک بڑی اکثریت ان منصوبوں کی سخت مخالف ہے جن کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعلقات کو مزید مستحکم اور گہرا کرنا ہے۔ اس سروے نے ان خدشات کو تقویت دی ہے جو عرصے سے ناقدین کی جانب سے اٹھائے جا رہے تھے کہ واشنگٹن کی موجودہ خارجہ پالیسی عوامی خواہشات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس سروے کے نتائج کانگریس کے ان ارکان کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں جو امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے اسرائیل کے فوجی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری یا انضمام کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی عوام اب مشرق وسطیٰ میں فوجی مداخلتوں اور غیر مشروط حمایت کے بجائے ملکی ترجیحات اور سفارتی حل پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح سے اسرائیل اور امریکہ کے دفاعی نظام کو آپس میں جوڑنے کی بات کی جا رہی ہے، وہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کا باعث بنے گی بلکہ یہ امریکی قومی سلامتی کے طویل مدتی مفادات کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔ اس عوامی رائے کے بعد، آنے والے دنوں میں کانگریس کے اندر اس معاملے پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ قانون سازوں کو اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی کیونکہ عوامی دباؤ اور ووٹرز کی ناراضگی اگلے انتخابی عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس سروے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم واشنگٹن میں موجود سیاسی مبصرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اگر کانگریس کے ارکان عوامی مطالبے کے باوجود اپنی فوجی پالیسیوں پر قائم رہتے ہیں، تو خدشہ ہے کہ یہ خلیج مزید وسیع ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں آئندہ انتخابات میں سیاست دانوں کو سخت عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔