LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین پر روسی میزائل حملے: 17 ہلاک، دنیا بھر میں تشویش

News Image
روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت اور دیگر اہم تنصیبات پر کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روس کی جانب سے کیے گئے شدید میزائل حملوں کے نتیجے میں 17 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملے انتہائی تباہ کن تھے جس میں خاص طور پر اہم شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیف کے میئر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روسی افواج نے جان بوجھ کر شہری تنصیبات کو ہدف بنایا ہے تاکہ موسم سرما میں یوکرینی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ ان حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ان کے اثرات پڑوسی ممالک رومانیہ اور مالدووا کی سرحدوں تک بھی محسوس کیے گئے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی کمی کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور اگر یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم نہ کیا گیا تو روس کی یہ جارحیت مزید نقصان کا باعث بنے گی۔ صدر زیلنسکی کے مطابق فضائی دفاعی نظام کی کمی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے روسی میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جس سے شہری آبادی کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ان ہلاکت خیز حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک بار پھر فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس تنازعہ کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے تاکہ مزید بے گناہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا اور انسانیت کی بنیاد پر اس تشدد کو فوری طور پر روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری یہ جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کے بحران کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ حالیہ حملوں نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ تنازعہ حل ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا فریقین کسی ایسے معاہدے پر پہنچ سکیں گے جس سے خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔ فی الحال صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مزید حملوں کا خدشہ بھی برقرار ہے۔