LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ اور فرانس: غیر قانونی تارکین وطن کی سمندری راستے سے آمد میں کمی

News Image
برطانوی ہوم آفس نے تسلیم کیا ہے کہ فرانسیسی حکام نے موسم گرما کے دوران سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر برطانیہ آنے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ فرانس کی جانب سے اپنائی گئی نئی حکمت عملیوں کے نتیجے میں سینکڑوں غیر قانونی کراسنگز کو ناکام بنایا گیا ہے۔
برطانوی ہوم آفس نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں فرانسیسی حکام کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کی سمندری راستے سے برطانیہ آمد کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں موسم گرما کے دوران فرانس کی جانب سے اپنائی گئی نئی سیکیورٹی حکمت عملیوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور سینکڑوں ممکنہ غیر قانونی کراسنگز کو برقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا گیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری اس مسئلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔ برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی ساحلی محافظوں اور پولیس کی جانب سے سمندری حدود میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت اور جدید بنانے سے اسمگلروں کے نیٹ ورکس کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس سے قبل بڑی تعداد میں لوگ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خطرناک سمندری راستوں سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس سے نہ صرف انسانی زندگیاں خطرے میں پڑتی تھیں بلکہ سرحد پر سیکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہوتے تھے۔ نئی حکمت عملی کے تحت ساحلی علاقوں میں گشت میں اضافہ اور انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ یقینی بنایا گیا ہے۔ اگرچہ غیر قانونی امیگریشن کے چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم لندن اور پیرس کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک اس بحران کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ نے فرانسیسی ہم منصب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اسی تسلسل کے ساتھ مشترکہ آپریشنز جاری رہے تو آنے والے مہینوں میں غیر قانونی سمندری آمدورفت میں مزید کمی متوقع ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ بہتر رابطے اور وسائل کی بہتر تقسیم کا ثمر ہے۔ آخر میں، برطانیہ اور فرانس اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال اور باہمی اعتماد کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف فرانس کی جانب سے چھوٹی کشتیوں کو روکنا برطانوی سرحدی ایجنسیوں کے لیے ایک ریلیف ثابت ہو رہا ہے، وہیں یہ عمل اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ یورپی ممالک کے درمیان قریبی تعاون ہی سرحدی مسائل کے دیرپا حل کی ضمانت ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک مزید سیکیورٹی معاہدوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ سمندری راستے سے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔