LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک ہوائی جہاز کی کامیاب ٹیسٹ فلائٹ، مستقبل کی ہوابازی میں نیا موڑ

News Image
ہارٹ کمپنی کے تیار کردہ الیکٹرک طیارے نے نیویارک میں 27 منٹ کی کامیاب پرواز مکمل کر لی۔ یہ جدید طیارہ صرف پانچ ڈالر مالیت کی بجلی استعمال کر کے ہوا میں بلند ہوا۔
ہوا بازی کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے، دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرک ہوائی جہاز نے اپنی پہلی کامیاب پرواز مکمل کر لی ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس کی جانب سے تیار کردہ ’ایکس 1‘ (X1) نامی اس ڈیموسٹریٹر طیارے نے نیویارک کے ایک علاقائی ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور تقریباً 27 منٹ تک مکمل طور پر بیٹری کی طاقت سے فضا میں تیرتا رہا۔ یہ تجرباتی پرواز اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مستقبل میں ہوائی سفر کو ماحول دوست اور سستا بنایا جا سکتا ہے۔ پرواز کے دوران یہ طیارہ 1,100 فٹ کی بلندی تک پہنچا اور اس میں صرف ایک پائلٹ موجود تھا، جبکہ مسافروں کو تاحال اس تجربے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق، اس مختصر مگر کامیاب پرواز کے لیے صرف 5 ڈالر مالیت کی بجلی استعمال ہوئی، جو روایتی جیٹ ایندھن کے مقابلے میں ناقابل یقین حد تک کم لاگت ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد ہوا بازی کے شعبے سے خارج ہونے والے کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور فضائی سفر کو زیادہ سستا اور پائیدار بنانا ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس کے انجینئرز اس پرواز کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے اپنے تیار کردہ پروٹوٹائپ کو حقیقت میں فضا میں بلند کیا، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے بڑے الیکٹرک طیاروں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ ابھی یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ بیٹری سے چلنے والے طیارے طویل فاصلوں اور بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے لیے قابلِ عمل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ الیکٹرک طیاروں کی جانب یہ پیش رفت عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ روایتی طیارے جو کہ جیٹ ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، ماحول کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ الیکٹرک ٹیکنالوجی نہ صرف شور میں کمی لائے گی بلکہ فضائی سفر کو زیادہ محفوظ اور کفایت شعار بھی بنائے گی۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس کمپنی کے اگلے ٹیسٹ اور بڑے طیاروں کی تیاری پر مرکوز ہیں، جو ہوائی سفر کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتے ہیں۔