LIVE
Loading Breaking News...

کرتاجاتي میں فضائیہ کے لیے نیا ایم آر او مرکز: انڈونیشیا کا دفاعی منصوبہ

News Image
انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے ویسٹ جاوا کے کرتاجاتي ایئرپورٹ کو فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے لیے ایک اہم مرمت اور دیکھ بھال کا مرکز بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کو کم کرنا ہے۔
جکارتہ (انتارا) انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ ویسٹ جاوا میں واقع کرتاجاتي ایئرپورٹ کو ملکی فضائیہ (TNI AU) کے لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال (MRO) کے ایک مرکزی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد انڈونیشیا کی دفاعی خود انحصاری کو فروغ دینا اور جدید فوجی سازوسامان کے لیے غیر ملکی سہولیات پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ یہ اقدام ملک کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نئے ایم آر او (MRO) مرکز کے قیام سے انڈونیشیا کو اپنے لڑاکا طیاروں کو مقامی سطح پر مرمت کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ تکنیکی عملے کو بھی جدید ترین مہارتیں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کرتاجاتي ایئرپورٹ کا محل وقوع اور اس کی وسیع جگہ اسے اس طرح کے تکنیکی مرکز کے لیے بہترین انتخاب بناتی ہے۔ اس منصوبے پر کام شروع ہونے سے مقامی صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا اور دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عمل تیز تر ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سہولت کے بننے سے انڈونیشی فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ اب طیاروں کی مرمت اور سروسنگ کے لیے بیرونی ممالک کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔ وزارت دفاع اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ عالمی معیار کے مطابق تکنیکی انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے تاکہ جدید ترین لڑاکا طیاروں کو یہاں سنبھالا جا سکے۔ یہ منصوبہ طویل مدتی دفاعی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد انڈونیشیا کو علاقائی دفاعی طاقت کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔ توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس مرکز کے قیام سے نہ صرف انڈونیشیا کی اپنی دفاعی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ مستقبل میں یہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک علاقائی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اس منصوبے کے لیے جدید آلات کی درآمد اور ماہرین کی تربیت کے لیے بھی خصوصی فنڈز مختص کر رہی ہے، تاکہ اسے جلد از جلد فعال کیا جا سکے۔