Technology
کیمروں کو چکمہ دینے والی شرٹس کا جھوٹ بے نقاب
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان رپورٹس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ کوئی فیشن ڈیزائنر سرویلنس کیمروں کو ناکام بنانے والی شرٹس بنا رہا ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی سے لیس ملبوسات کی فروخت برسوں پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے پھیل رہی تھی کہ ایک فیشن ڈیزائنر ایسی شرٹس متعارف کروا رہا ہے جو خودکار لائسنس پلیٹ ریڈرز اور فلاک (Flock) جیسے جدید سرویلنس کیمروں کو الجھا کر انہیں ناکارہ بنا سکتی ہیں۔ تاہم، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تکنیکی ماہرین اور تحقیقاتی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی ٹیکنالوجی کی تیاری یا فروخت کا فی الحال کوئی وجود نہیں ہے اور یہ دعوے محض ایک افواہ کے سوا کچھ نہیں۔
ماہرین کے مطابق، جدید سرویلنس سسٹم صرف عام تصاویر پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ترین الگورتھمز کا استعمال کرتے ہیں جو اس قسم کے فریب کو فوری طور پر پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے قبل ماضی میں کچھ ایسے لباس یا ایکسیسریز بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں جو کیمروں کے لیے رکاوٹ بن سکیں، لیکن ان کی افادیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایسی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر فروخت اور تیاری برسوں پہلے ہی بند کر دی گئی تھی کیونکہ وہ جدید کیمروں کے ہائی ریزولوشن اور انفراریڈ سینسرز کے سامنے بے اثر ثابت ہوئیں۔
مذکورہ افواہ 2026 کے وسط میں سوشل میڈیا پر اس وقت شروع ہوئی جب کچھ نامعلوم حلقوں نے ٹیکنالوجی اور فیشن کے امتزاج کے بارے میں گمراہ کن دعوے کیے۔ اس قسم کی خبریں اکثر لوگوں کی پرائیویسی سے متعلق خدشات کا فائدہ اٹھانے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ تاہم، سائبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نگرانی کرنے والے جدید آلات سے بچنے کے لیے لباس کا استعمال ایک غیر عملی اور بے بنیاد نظریہ ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر یقین کرنے سے گریز کریں جو بغیر کسی تکنیکی ثبوت کے پھیلائی جا رہی ہوں۔
آخر میں، فلاک (Flock) کیمرے اور دیگر نگرانی کے آلات پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم ٹول ہیں۔ یہ کیمرے صرف ایک خاص قسم کے لباس یا پرنٹ سے دھوکہ نہیں کھا سکتے، کیونکہ ان کا ڈیٹا پروسیسنگ کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ایسی خبریں صرف عوام میں سنسنی پھیلانے اور ٹیکنالوجی کے بارے میں غلط تصورات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ لہذا، اس قسم کے وائرل دعووں کو مسترد کر دینا ہی دانشمندی ہے۔