LIVE
Loading Breaking News...

ایمازون ڈرون ڈلیوری سروس: تیرہ سال بعد بڑی کامیابی

News Image
ایمازون کی جانب سے تیرہ سال قبل شروع کیے گئے ڈرون ڈلیوری منصوبے میں اب تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کمپنی اپنے اہداف کے حصول کے قریب ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس پیش رفت کو مستقبل کے لاجسٹک نظام کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے تیرہ سال قبل جب پہلی بار '60 منٹس' کے سیٹ پر اپنی کمپنی کے پہلے ڈلیوری ڈرون کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل قریب میں گاہکوں کو آرڈر کردہ سامان صرف 30 منٹ کے اندر بذریعہ فضا پہنچایا جائے گا۔ اس وقت یہ ایک دیوانے کا خواب لگتا تھا جس پر دنیا بھر کے ماہرین نے شک و شبہ کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، اتنے طویل عرصے تک جاری رہنے والی تکنیکی رکاوٹوں اور ریگولیٹری مشکلات کے باوجود ایمازون نے ہمت نہیں ہاری اور اب کمپنی کے لیے صورتحال میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس منصوبے کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے 'غیر عملی' قرار دیا گیا۔ لیکن ایمازون کی ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی، بہتر نیویگیشن سسٹم اور بیٹری لائف میں بہتری لا کر ان تمام خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب جبکہ کمپنی اپنے ڈرون نیٹ ورک کو مزید وسعت دے رہی ہے، یہ واضح ہے کہ ایمازون کا خواب اب محض ایک مارکیٹنگ ہتھکنڈہ نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ کاروباری ماڈل بن چکا ہے۔ کمپنی کے موجودہ عہدیداروں کے مطابق، ان کے ڈرونز نے ہزاروں گھنٹے کی ٹیسٹ فلائٹس مکمل کر لی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نظام اب تجارتی پیمانے پر استعمال کے لیے تیار ہے۔ اس منصوبے میں سب سے اہم پیش رفت ریگولیٹری اداروں کے ساتھ تعاون میں بہتری ہے۔ امریکہ سمیت دیگر ممالک میں فضائی حدود کے قوانین میں نرمی اور ڈرون ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے قیام نے ایمازون کی راہ ہموار کی ہے۔ کمپنی اب چھوٹے اور درمیانے درجے کے پارسلز کو تیزی سے پہنچانے کے لیے ایک ایسے خودکار نظام پر کام کر رہی ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر کام کر سکے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف ایمازون کی لاجسٹک لاگت میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو بھی فوری سروس میسر ہوگی۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمازون کی یہ پیش رفت آن لائن ریٹیل کی دنیا میں ایک انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ابھی بھی کچھ تکنیکی چیلنجز موجود ہیں، لیکن ایمازون جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیف بیزوس کا وہ تیرہ سال پرانا خواب اب حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ایمازون بلکہ پوری دنیا کے ای-کامرس سیکٹر کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گا، جہاں ڈلیوری کے لیے زمینی ٹریفک کی بجائے آسمان کا انتخاب کیا جائے گا۔