World
امریکی پابندیاں ایران کی معیشت اور حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں
امریکہ نے تہران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ایرانی معیشت کو مفلوج بنانا ہے۔ تہران نے ان اقدامات کو اقتصادی جنگ قرار دیتے ہوئے ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی اور سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان جارحانہ اقدامات کا بنیادی مقصد ایرانی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کرنا اور وہاں موجود موجودہ سیاسی نظام کو اندرونی طور پر کمزور کرکے اس کا تختہ الٹنا ہے۔ ان اعلانات کے بعد عالمی سطح پر خطے کی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کے اثرات واضح ہونے لگے ہیں۔
دوسری جانب تہران نے واشنگٹن کی ان دھمکیوں اور اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں معاشی دہشت گردی اور ناکام حربے قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ ملک پہلے ہی کئی دہائیوں سے بیرونی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اور وہ ان نئی اقتصادی جنگ کی چالوں کا بھی بھرپور مقابلہ کرے گا۔ تہران نے اپنے اتحادی ممالک اور تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے نئے سفارتی اور معاشی لائحہ عمل پر کام شروع کر دیا ہے۔
اس صورتحال کے تسلسل کے ساتھ ہی بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ وہ خطرات ہیں جو ایران کی تیل کی برآمدات کو ٹارگٹ کرنے والی امریکی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے ان عزائم پر سختی سے عمل درآمد کیا تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی رسد کے نظام پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔