LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی شمالی کوریا پالیسی اور جنوبی کوریا کی سیکیورٹی

News Image
امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی خواہش نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں جنوبی کوریا کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ سفارتی کوششیں اگرچہ جزیرہ نما کوریا میں تناؤ کو کم کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں جنوبی کوریا کے لیے سیکیورٹی خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست رابطوں پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ روایتی امریکی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا جمعہ کو وقت سے پہلے اختتام پذیر ہونا اس صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں اس وقت ختم کی گئیں جب شمالی کوریا عسکری اور تکنیکی لحاظ سے کافی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف خطے کے دیگر ممالک بلکہ جنوبی کوریا کے عوام میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا امریکہ اپنی سیکیورٹی ضمانتوں پر قائم رہے گا یا نہیں۔ جنوبی کوریا کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کی طرف جاتا ہے تو اس کی قیمت اسے اپنی قومی سلامتی کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام اور میزائل تجربات بدستور جاری ہیں، اور اگر امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین قربت بڑھتی ہے تو جنوبی کوریا تنہا رہ جانے کے خدشات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں سیول حکومت کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو کس طرح متوازن رکھے۔ یہ پیشرفت آنے والے وقتوں میں مشرقی ایشیا کی سیاست میں بڑے تبدیلیاں لانے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے۔