LIVE
Loading Breaking News...

شام میں جنگ زدہ گھروں کی بحالی: مشکلات اور حقائق

News Image
شام میں طویل عرصے سے جاری جنگ نے نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ لاکھوں خاندانوں کے گھروں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔ اب ان بے گھر افراد کے لیے اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔
شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری تباہ کن جنگ نے ملک کے بڑے حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ جب ہم تعمیر نو کی بات کرتے ہیں تو اکثر حکومتی عمارتوں یا بڑی سڑکوں کا تذکرہ ہوتا ہے، لیکن اصل المیہ ان لاکھوں عام خاندانوں کا ہے جن کے گھر بارود کے ڈھیر تلے دب گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے خاتمے کے بعد گھروں کی بحالی کا عمل صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ بقا کی ایک نئی جنگ ہے۔ متاثرین کے لیے اپنے آبائی گھروں کی طرف واپسی اور وہاں دوبارہ زندگی شروع کرنا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے کیونکہ ان کے پاس معاشی وسائل کی شدید کمی ہے۔ تعمیر نو کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تعمیراتی سامان کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اور معاشی بحران ہے۔ شام کی معیشت جنگ کے اثرات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ایک عام شہری کے لیے سیمنٹ، سریا اور دیگر ضروری سامان خریدنا ناممکن ہو چکا ہے۔ بہت سے خاندان جو نقل مکانی کے بعد واپس لوٹے ہیں، وہ اب بھی عارضی خیموں یا نیم تباہ شدہ عمارتوں کے ان حصوں میں رہ رہے ہیں جو کسی حد تک محفوظ ہیں۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی امداد بھی ناکافی نظر آتی ہے، جس کے باعث تعمیر نو کا عمل نہایت سست روی کا شکار ہے۔ علاوہ ازیں، گھروں کی تعمیر نو کے قانونی اور سماجی مسائل بھی درپیش ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس اپنی جائیدادوں کے کاغذات یا تو جنگ میں ضائع ہو چکے ہیں یا پھر جائیدادیں تباہ ہونے کے بعد ان کی حد بندی کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ حکومتی سطح پر بھی تعمیراتی منصوبے محدود ہیں اور ترجیحات میں بنیادی خدمات کی بحالی شامل ہے، جس کی وجہ سے ذاتی مکانات کی تعمیر ہر شہری کی اپنی ذاتی ذمہ داری بن گئی ہے۔ یہ ان بے گھر افراد کے لیے نفسیاتی صدمے کا بھی باعث ہے جو اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آخر میں، شام کے تباہ شدہ علاقوں میں تعمیر نو محض تعمیراتی کام نہیں بلکہ یہ لوگوں کی امیدوں کی بحالی کا نام ہے۔ جب تک عالمی برادری اور حکومتی سطح پر پائیدار معاشی اصلاحات اور تعمیراتی امداد کا باقاعدہ نظام نہیں بنتا، تب تک لاکھوں خاندانوں کے لیے اپنے گھروں کی چھت تلے دوبارہ جمع ہونا ایک خواب ہی رہے گا۔ شام کی سڑکوں پر بکھرے ملبے کے نیچے دبے ہوئے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک مربوط اور ہمدردانہ پالیسی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ انسانیت کو دوبارہ زندگی کی طرف لایا جا سکے۔