LIVE
Loading Breaking News...

عبادان ڈیجیٹل اکیڈمی کی مہارتوں کے تربیتی مرکز میں تبدیلی، این بی ٹی ای کا معائنہ

News Image
نیشنل بورڈ برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن (این بی ٹی ای) نے ریاست اویو میں واقع عبادان ڈیجیٹل اکیڈمی کا معائنہ کیا ہے تاکہ اسے مہارتوں کے تربیتی مرکز کا درجہ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو تکنیکی مہارتوں سے لیس کرنا اور ڈیجیٹل شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
نیشنل بورڈ برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن (NBTE) نے حال ہی میں ریاست اویو میں قائم عبادان ڈیجیٹل اکیڈمی کا ایک اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد اکیڈمی کی موجودہ انفراسٹرکچر، تعلیمی سہولیات اور ٹیکنالوجی کے معیار کا جائزہ لینا ہے تاکہ اسے ایک باقاعدہ 'اسکل ٹریننگ سینٹر' یعنی مہارتوں کے تربیتی مرکز کا درجہ دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ قدم نائجیریا میں فنی اور تکنیکی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بورڈ کی جاری حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس معائنے کے دوران بورڈ کی ٹیم نے اکیڈمی کی کلاس رومز، لیبارٹریز اور وہاں موجود ڈیجیٹل آلات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عبادان ڈیجیٹل اکیڈمی کو ایک سرٹیفائیڈ ٹریننگ سینٹر کے طور پر تسلیم کروانے کے لیے مخصوص معیارات پر پورا اترنا ضروری ہے، جن میں طلباء کو عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے جدید سافٹ ویئر، ہارڈ ویئر اور تجربہ کار اساتذہ کی موجودگی شامل ہے۔ ٹیم نے اکیڈمی کی انتظامیہ سے ان کے نصاب اور تربیت کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔ ریاست اویو میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر عبادان ڈیجیٹل اکیڈمی کو این بی ٹی ای کی منظوری مل جاتی ہے، تو یہ ادارہ سرکاری سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا مجاز ہوگا، جس سے وہاں کے طلباء کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ نیشنل بورڈ برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے اس قسم کے اقدامات ملک بھر میں تکنیکی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ آخر میں، اکیڈمی کی انتظامیہ نے بورڈ کے وفد کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اکیڈمی کی قابلیت اور تعلیمی معیار کی بنیاد پر اسے جلد ہی مہارتوں کے تربیتی مرکز کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائے گا بلکہ خطے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ این بی ٹی ای کی رپورٹ آنے کے بعد اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے، جس کے بعد اکیڈمی میں نئے پروگرامز کا آغاز بھی کیا جا سکے گا۔