World
ایورگرانڈ کے بانی شو جیاین کو عمر قید - نیکسورا نیوز
چین کی تباہ ہونے والی بڑی پراپرٹی کمپنی ایورگرانڈ کے بانی شو جیاین کو فریب کاری اور مالیاتی اسکینڈلز کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ وہ کبھی ایشیا کے امیر ترین شخص مانے جاتے تھے لیکن اب قرضوں کے بحران کے مرکز میں رہنے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں۔
چین کے سب سے بڑے اور دنیا کے سب سے زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے رئیل اسٹیٹ ڈویلپر 'ایورگرانڈ' کے بانی اور سابق چیئرمین شو جیاین کو عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ شو جیاین کبھی ایشیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں سرفہرست ہوا کرتے تھے، تاہم ان کی کمپنی کے زوال اور بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ کے انکشافات کے بعد ان کا یہ شاندار سفر ایک اندھیرے انجام سے دوچار ہو گیا ہے۔ وہ چین کے موجودہ جائیداد اور رئیل اسٹیٹ بحران کے مرکزی کردار مانے جاتے ہیں، جس نے ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، شو جیاین پر یہ فرد جرم عائد کی گئی تھی کہ انہوں نے اپنی کمپنی کے مالیاتی معاملات میں سنگین نوعیت کی ہیرا پھیری کی، سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی سے کام لیا۔ ایورگرانڈ کا زوال اس وقت شروع ہوا جب چینی حکومت نے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں غیر معمولی قرض لینے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ اس کے نتیجے میں کمپنی اپنے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہو گئی، جس سے نہ صرف چین بلکہ عالمی سطح پر مالیاتی منڈیوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
شو جیاین کی کہانی ایک عام انسان سے لے کر ایشیا کے امیر ترین ٹائیکون اور پھر عدالتی کٹہرے تک پہنچنے کی ایک دردناک داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب ان کی ذاتی دولت اور کاروباری سلطنت کی دھاک پوری دنیا میں بیٹھی ہوئی تھی، مگر پوکر کے کھیلوں میں مبینہ طور پر بھاری نقصانات اٹھانے اور کاروباری ہتھکنڈوں کے باعث ان کی سلطنت ریت کے گھروندے کی طرح بکھر گئی۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ شو جیاین کو ملنے والی یہ سخت ترین سزا چین میں بڑے پیمانے پر مالیاتی کرپشن اور کارپوریٹ جرائم کے خلاف ایک واضح پیغام کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد جہاں چین میں پراپرٹی مارکیٹ کے متاثرہ خریداروں اور سرمایہ کاروں کو کسی حد تک انصاف کی امید بندھی ہے، وہیں یہ پورا واقعہ کارپوریٹ دنیا کے لیے ایک بڑی تنبیہ بھی ہے۔ ایورگرانڈ کا انہدام اور اب اس کے بانی کا عمر قید کی سزا پانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون کے ہاتھ کتنے ہی با اثر افراد تک کیوں نہ پہنچنا ہوں، وہ اندھے اور طاقتور ہوتے ہیں۔ یہ عدالتی کارروائی چینی معیشت کے اس نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جہاں حکومت پراپرٹی سیکٹر کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے سخت تضبطی اور احتساب کے عمل کو سختی سے نافذ کر رہی ہے۔