LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تیزی، ڈالر اور بانڈ یلڈز گر گئے

News Image
امریکی فیڈرل ریزرو کے منٹس جاری ہونے سے قبل ڈالر اور بانڈ یلڈز میں گراوٹ کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے فیڈ کی آئندہ حکمت عملی پر نظریں جمی ہوئی ہیں جس سے سونے کی طلب میں تیزی آئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے دوران سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے منٹس جاری کیے جانے سے قبل ڈالر کی قدر میں گراوٹ اور امریکی ٹریژری بانڈز کے منافع کی شرح (Yields) میں کمی نے سونے کی خریداری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بانڈ یلڈز میں کمی سے سونے کی کشش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سرمایہ کار اسے محفوظ اثاثہ کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سونے کی قیمتوں نے جون کے ابتدائی دنوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، جبکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹریژری بائے بیک (Treasury Buyback) اقدامات کے بعد بانڈ مارکیٹ میں پیدا ہونے والی لہر نے سونے کو ایک مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔ اس تیزی کے بعد اب سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ فیڈرل ریزرو کے منٹس پر مرکوز ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود میں کمی کا امکان کتنا حقیقت پسندانہ ہے۔ دوسری جانب مہنگائی کے خدشات اور شرح سود میں ممکنہ کمی کی امیدوں کے درمیان مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تیزی پائیدار ہو گی یا نہیں، اس کا انحصار فیڈرل ریزرو کے بیانات اور مستقبل کے معاشی اشاریوں پر ہوگا۔ اس وقت ٹریڈنگ ویوز اور دیگر مالیاتی پلیٹ فارمز پر سونے کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ بریک آؤٹ تکنیکی ہے یا طویل مدتی رجحان کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر، عالمی معاشی حالات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے سائے میں سونے کی مانگ میں اضافہ ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت ڈالر کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سونے میں اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں سونے کی قیمتوں کا تعین ڈالر کی مزید کارکردگی اور عالمی مرکزی بینکوں کے فیصلوں سے مشروط ہوگا، جس سے قلیل مدتی تجارت کرنے والوں کو نئی سمت ملنے کا امکان ہے۔