LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان حملوں میں شدت

News Image
یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے جس کے بعد ملک میں دوبارہ مکمل پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حالیہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سرکاری فورسز نے اکیانوے حملے کیے ہیں جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب میں دو اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمن ایک بار پھر مکمل پیمانے پر جنگ کی طرف گامزن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں حوثی باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان مسلح تصادم اور حملوں کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے خطے میں امن کی تمام امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یمنی سرکاری فورسز نے جوابی کارروائیوں کے تحت اکیاسی حملے کیے ہیں، جس کا مقصد حوثی باغیوں کی پیش قدمی کو روکنا اور ان کے زیر اثر علاقوں کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری طرف، حوثی گروپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سرحدی علاقوں کو عبور کرتے ہوئے ہمسایہ ملک سعودی عرب کے اندر دو اہم اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔ فریقین کی جانب سے حملوں میں اس اچانک تیزی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یمن میں پہلے ہی انسانی بحران اپنے عروج پر ہے اور لاکھوں افراد خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا اور مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے، تو یہ جھڑپیں ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں جس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں تاکہ یمنی عوام کو مزید مصائب سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔