World
برطانیہ: شہزادہ ہیری کی سیکیورٹی اور شاہی خاندان کے اندرونی تنازعات
برطانوی اخبارات میں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی برطانیہ واپسی کے بعد شاہی خاندان کے اندرونی معاملات پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔ شہزادہ ہیری کی سیکیورٹی پر اٹھنے والے خطیر اخراجات عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
برطانیہ کے اہم اخبارات میں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی برطانیہ واپسی کے حوالے سے خبریں بدستور شہ سرخیوں میں موجود ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی محل میں معاملات اب ایک نئے رخ پر گامزن ہیں جہاں بادشاہ چارلس نے اپنے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم کو ہر معاملے میں اولیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت نے شاہی خاندان کے اندرونی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے اور تجزیہ کار اسے شاہی ترجیحات میں تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے حالیہ دوروں کے بعد ان کی سیکیورٹی کے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔
اخبارات کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری کی سیکیورٹی کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کا تخمینہ پانچ ملین پاؤنڈ سالانہ تک پہنچ سکتا ہے، جو کہ برطانوی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا کیے جانے کا امکان ہے۔ اس بھاری رقم کے حوالے سے برطانوی عوام اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کے بعد ذاتی نوعیت کے دوروں پر عوامی خزانے سے اتنی بڑی رقم خرچ کرنا عوامی مفاد میں نہیں ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
ادھر شاہی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے معاملات حساس نوعیت کے حامل ہیں اور ان پر فیصلہ حکومتی سطح پر ہوتا ہے۔ شہزادہ ہیری کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ برطانیہ کے شاہی محل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ شہزادہ ہیری کی سیکیورٹی ضروری ہے، تاہم اس کے مالیاتی بوجھ کو کیسے بانٹا جائے، یہ ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔
مجموعی طور پر برطانوی پریس میں اس بات پر کافی گرما گرم بحث دیکھنے میں آ رہی ہے کہ آیا شاہی خاندان کے انفرادی ارکان کو اتنی وسیع سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید قانونی اور عوامی ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے۔ شاہی خاندان کے اندرونی اختلافات اور عوامی اخراجات کے درمیان پیدا ہونے والی یہ کھینچا تانی بلاشبہ برطانوی عوام کے لیے دلچسپی اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔