LIVE
Loading Breaking News...

ایشیا میں ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کا مستقبل اور نقل و حمل

News Image
ایشیا کے اہم ممالک نقل و حمل کے شعبے میں گرین ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ ممالک طویل مدتی اہداف کے حصول اور ماحول دوست توانائی کے ذریعے اپنی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
ایشیا بھر کی حکومتیں اب نقل و حمل کے شعبے میں گرین ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک نیا انقلاب لانے کے لیے سرگرم ہو چکی ہیں۔ جاپان، چین اور بھارت جیسے ممالک اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنے مستقبل کے لیے ناگزیر سمجھ رہے ہیں۔ اگرچہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرانسپورٹ کی تجارتی کامیابی میں ابھی برسوں یا شاید دہائیوں کا وقت لگ سکتا ہے، لیکن ایشیائی طاقتیں اس شعبے میں اپنی ابتدائی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار بھی ختم کرے گا۔ ہائیڈروجن کو مستقبل کا ایندھن قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ جلنے کے بعد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے صرف پانی خارج کرتا ہے، جو اسے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک مثالی حل بناتا ہے۔ جاپان پہلے ہی ہائیڈروجن انفراسٹرکچر میں نمایاں سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ چین اپنی وسیع صنعتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہائیڈروجن گاڑیاں بنانے پر کام کر رہا ہے۔ دوسری جانب، بھارت بھی اپنی قومی ہائیڈروجن مشن کے تحت اس ٹیکنالوجی کو سستا اور قابل رسائی بنانے کے لیے مختلف پالیسیاں متعارف کروا رہا ہے تاکہ ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ماحول دوستی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر متعارف کروانے میں چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں پیداواری لاگت، اسٹوریج کے مسائل اور انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہیں۔ تاہم، ایشیائی ممالک ان رکاوٹوں کے باوجود ہائیڈروجن کی معیشت میں اپنی جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ممالک اپنی تحقیق اور ترقی کے عمل کو جاری رکھتے ہیں تو ہائیڈروجن ٹرانسپورٹ نہ صرف عوامی سفر کو بلکہ ہیوی ڈیوٹی کمرشل گاڑیوں کو بھی مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔ یہ پیشرفت خطے کی توانائی کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے گی اور عالمی سطح پر گرین انرجی کے منتقلی میں ایشیا کو ایک رہنما کے طور پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔