LIVE
Loading Breaking News...

ریسین کاؤنٹی میں فلاک کیمروں کا غیر قانونی استعمال، تفتیش کار معطل

News Image
امریکہ کی ریاست وسکونسن میں ریسین کاؤنٹی شیرف آفس کے ایک تفتیش کار کو نجی اور حساس ٹیکنالوجی 'فلاک کیمروں' کے غلط استعمال پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نگرانی کے آلات کے درست استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
امریکہ کی ریاست وسکونسن کے ریسین کاؤنٹی شیرف آفس میں ایک انتہائی اہم واقعہ سامنے آیا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک تفتیش کار کو 'فلاک' (Flock) کیمروں کے غلط استعمال کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔ فلاک کیمرے دراصل ایک جدید نگرانی کا نظام ہیں جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کا غیر مجاز استعمال اب ایک بڑی قانونی اور اخلاقی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب حکام کو معلوم ہوا کہ تفتیش کار نے اپنی سرکاری ڈیوٹی سے ہٹ کر نجی مقاصد یا بغیر کسی قانونی جواز کے ان کیمروں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس تفتیش کار نے سسٹم کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جن کے خلاف کوئی مجرمانہ تفتیش جاری نہیں تھی۔ شہری حقوق کے کارکنوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اداروں کے پاس موجود جدید نگرانی کے آلات کے استعمال کے لیے مزید سخت قوانین بنائے جائیں تاکہ کسی بھی قسم کے ذاتی مفاد یا بدنیتی پر مبنی کارروائی کو روکا جا سکے۔ ریسین کاؤنٹی شیرف آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمین کے احتساب پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادارے نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فلاک کیمروں کا استعمال صرف عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے مختص ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب پولیس فورسز ٹیکنالوجی کا سہارا لیتی ہیں تو اس کی نگرانی کا نظام اتنا ہی مضبوط ہونا چاہیے جتنا کہ وہ ٹیکنالوجی خود ہے۔ فی الحال اس کیس کی داخلی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا اس عمل سے مزید کوئی حساس ڈیٹا یا شہریوں کی پرائیویسی متاثر تو نہیں ہوئی۔ اس واقعے نے پورے امریکہ میں پولیس کی جانب سے نگرانی کرنے والے ٹیکنالوجیز کے استعمال پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے، جس میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت نگرانی کے طریقہ کار کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔