LIVE
Loading Breaking News...

زرعی آلودگی میں کمی: نائٹرس آکسائیڈ گیس روکنے کا نیا سائنسی طریقہ

News Image
سائنسدانوں نے زرعی شعبے سے نائٹرس آکسائیڈ گیس کے اخراج کو روکنے کے لیے ایک نیا اہم طریقہ کار دریافت کیا ہے۔ اس تحقیقی پیشرفت میں ٹرائیازول مرکبات کا استعمال کرتے ہوئے نائٹروجن کی تخفیف کے عمل کو مؤثر انداز میں مانیٹر اور کنٹرول کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
زراعت کے شعبے سے خارج ہونے والی نائٹرس آکسائیڈ گیس عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کا ایک بڑا سبب بن رہی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک جدید سائنسی تحقیق میں ماہرین نے زرعی زمینوں سے اس نقصان دہ گیس کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے ایک نیا اور انتہائی مؤثر کیمیائی طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد زرعی پیداوار کو متاثر کیے بغیر ماحول دوست طریقہ ہائے کار اپنا کر کلائمیٹ چینج کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق زرعی زمینوں میں نائٹروجن والی کھادوں کے استعمال کے بعد مٹی میں موجود بیکٹیریا ڈی نائٹریفکیشن کے عمل سے گزرتے ہیں جس کے نتیجے میں نائٹرس آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ اس نئی تحقیق میں ساخت پر مبنی شناخت کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹرائیازول مرکبات سائٹوکروم پی 450 انزیبٹرز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ کیمیائی مرکبات ڈی نائٹریفکیشن کے عمل کے دوران نائٹرس آکسائیڈ گیس کی پیدائش کو مؤثر طریقے سے روکتے ہیں۔ ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق زرعی کلائمیٹ مٹیگیشن یعنی ماحولیاتی بہتری کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ایسے مخصوص کیمیائی حل کی عدم موجودگی تھی جو براہ راست اس عمل کو نشانہ بنا سکیں۔ اس پیشرفت کے بعد اب ایسی نئی زرعی کیمیائی دوائیں اور ماحول دوست کھادیں تیار کرنا ممکن ہو سکے گا جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم سے کم کر سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کے ذریعے عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی اور پائیدار زراعت کا قیام ممکن ہو سکے گا۔