LIVE
Loading Breaking News...

لیتھیم میٹل بیٹریوں کی حفاظت اور کارکردگی میں پیش رفت | سائنس اور ٹیکنالوجی

News Image
سائنسدانوں نے لیتھیم میٹل بیٹریوں میں گیس بننے کے عمل کی بنیادی وجہ کا سراغ لگا کر اسے روکنے کا آسان طریقہ کار دریافت کر لیا ہے۔ اس پیش رفت سے الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرانک ڈیوائسز کی بیٹریوں کی حفاظت اور پائیداری میں نمایاں اضافہ ہوگا اور تجارتی استعمال کی راہ ہموار ہوگی۔
جدید توانائی کے ذخیرے کے لیے لیتھیم میٹل بیٹریاں ایک انتہائی اہم پیش رفت تصور کی جاتی ہیں، تاہم ان کی حفاظت اور تجارتی سطح پر وسیع پیمانے پر استعمال میں گیس کا اخراج ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ ہائی انرجی لیتھیم میٹل بیٹریوں میں آپریشن کے دوران بننے والی گیسیں بیٹری کی ساخت اور کارکردگی کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے بیٹری کی عمر کم ہو جاتی ہے اور دھماکے یا خرابی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دنیا بھر کے سائنسدان طویل عرصے سے مختلف تجربات میں مصروف تھے۔ حال ہی میں کی جانے والی ایک اہم سائنسی تحقیق میں ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایتھر پر مبنی الیکٹرولائٹ کی تحلیل سے لیتھیم اینوڈ پر میتھین گیس (CH4) پیدا ہوتی ہے، جو بیٹری کے اندر گیس کے اخراج کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اینوڈ کی سطح پر کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں میتھین گیس کا بننا بیٹری کے اندرونی دباؤ کو بڑھا دیتا ہے، جس کی وجہ سے بیٹری کے پھولنے اور خراب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس دریافت نے سائنسدانوں کو مسئلے کی اصل جڑ کو سمجھنے میں اہم مدد فراہم کی ہے۔ اس بنیادی مسئلے پر قابو پانے کے لیے محققین نے ایک آسان اور مؤثر 'اینوڈ ایکٹیویشن اسٹریٹجی' یعنی اینوڈ کو فعال کرنے کی حکمت عملی پیش کی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت لیتھیم اینوڈ کی سطح کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ الیکٹرولائٹ کی تحلیل کا عمل کنٹرول میں رہے اور میتھین گیس کی پیدائش کو نمایاں طور پر دبایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف گیس کے اخراج کو کامیابی سے روکا جا سکتا ہے بلکہ بیٹری کی صلاحیت، چارجنگ کی رفتار اور مجموعی پائیداری میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس جدید ترین طریقے کو اپنانے سے لیتھیم میٹل بیٹریوں کو تجارتی بنیادوں پر محفوظ بنانا اب ممکن ہو جائے گا۔ اس سے الیکٹرک گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کے لیے طویل المدتی اور زیادہ طاقتور بیٹریوں کی تیاری کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ یہ پیش رفت آنے والے وقت میں گرین انرجی اور پائیدار توانائی کے شعبے میں ایک نیا انقلاب برپا کر سکتی ہے۔