LIVE
Loading Breaking News...

پیرووسکائٹ سولر سیلز کی کارکردگی میں بڑا اضافہ، نئی سائنسی دریافت

News Image
سائنسدانوں نے پیرووسکائٹ سولر سیلز کی کارکردگی اور طویل مدتی پائیداری کو بڑھانے کے لیے مالیکیولر لیول پر ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے شمسی توانائی کے پینلز کی لائف اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
شمسی توانائی کی صنعت میں پیرووسکائٹ سولر سیلز کو مستقبل کی سب سے امید افزا ٹیکنالوجی مانا جا رہا ہے، تاہم ان کی پائیداری اور یکسانیت میں کچھ فنی مشکلات حائل تھیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ماہرینِ طبعیات اور کیمیادانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ایک نیا طریقہ کار دریافت کیا ہے جو مالیکیولر سطح پر مالیکیولز کے بکھراؤ اور باہمی جوڑ کو بہتر بناتا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت لوؤ (Luo) اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے، جس کے نتائج سائنس کے شعبے میں انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ عام طور پر پیرووسکائٹ سولر سیلز میں مالیکیولز کو خودکار طریقے سے ایک یکساں تہہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یکساں یا متوازن (Symmetric) مالیکیولز ایک جگہ جمع ہو کر گچھے بناتے ہیں جس سے انٹرفیس کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کمزوری کی وجہ سے سولر سیلز کی صلاحیت اور پائیداری متاثر ہوتی تھی۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دو مختلف مالیکیولز کو یکجا کیا جس نے مالیکیولر توازن کو توڑا اور مالیکیولز کی سمیٹری بریکنگ (Symmetry-breaking) ممکن ہوئی۔ اس جدید مالیکیولر طریقہ کار کی وجہ سے سولر سیل کی سطح پر یکساں کوریج حاصل ہوئی اور انرجی کے ضیاع میں نمایاں کمی آئی۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ اس تکنیک کے استعمال سے نہ صرف پیرووسکائٹ سولر سیلز کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں ریکارڈ اضافہ ہوا بلکہ ان کی طویل مدتی پائیداری بھی بہتر ہوئی۔ یہ نیا طریقہ کار شمسی پینلز کی پیداواری لاگت کو کم کرنے اور انہیں عام تجارتی استعمال کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت قابلِ تجدید توانائی کی سمت میں ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوگی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے روایتی ایندھن پر انحصار کم کر کے ماحول دوست توانائی کے حصول کو زیادہ آسان اور ارزاں بنایا جا سکے گا۔ آئندہ چند سالوں میں اس مالیکیولر ڈیزائن کو بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تجارتی تیاری میں استعمال کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔