World
ایران پر نئی امریکی پابندیاں اور عالمی معیشت پر اثرات
امریکی حکام نے ایران پر اب تک کی سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس کا مقصد تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔ اس معاشی دباؤ کے بعد عالمی منڈیوں اور بانڈز کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کی معیشت کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے ایک نئی اور سخت حکمت عملی کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ تہران پر تاریخ کی سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی تاکہ اس کے تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورک کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے شراکت داروں کو تنبیہ کرنا اور عسکری کارروائیوں کے بجائے معاشی دباؤ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی لہر سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب، مالیاتی منڈیوں میں اس صورتحال کے اثرات واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ بانڈز کی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات کی وجہ سے بانڈز کا یہ کھیل خسارے کا سودا بنتا جا رہا ہے۔ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور وہ محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ سی این بی سی کی روزانہ کی رپورٹس کے مطابق، اس 'معاشی ڈی ڈے' کی طرح کی پابندیوں سے ایران کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس پر عالمی تجزیہ کاروں کی آراء مختلف ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس سے توانائی کی سپلائی اور عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کی نامزدگی کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ چین سمیت دیگر ممالک کو بھی ان پابندیوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے چاہئیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان تجارتی تعاون اس امریکی حکمت عملی کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، کیونکہ بیجنگ روایتی طور پر تہران کے ساتھ قریبی معاشی روابط رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا امریکی انتظامیہ اس طویل مدتی معاشی محاصرے پر سختی سے قائم رہتی ہے یا بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر اس کی پالیسی میں کچھ لچک آتی ہے۔
موجودہ حالات میں مشرق وسطیٰ کی سیاست اور معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے خطرات کے ساتھ ساتھ معاشی محاصرے کی یہ نئی جنگ دنیا بھر کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں سے لے کر بانڈ مارکیٹ تک، ہر شعبہ اس کشیدگی کے منفی اثرات سے دوچار ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مزید وسیع معاشی نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔