LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور بھارت کی مستقل رکنیت کا مطالبہ

News Image
بین الاقوامی مبصرین اور سفارتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست دی جانی چاہیے۔ یہ مطالبہ عالمی نظام میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کئی اہم عالمی جریدوں اور سفارتی تجزیہ نگاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست دی جائے۔ یہ بحث اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے جب دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی ناکامی اور اس کے موجودہ ڈھانچے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والی سلامتی کونسل اب موجودہ دنیا کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی اور اسے ایک نوآبادیاتی دور کی باقیات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت نے بھی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ سلامتی کونسل کو تنگ سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ بھارت نے پاکستان اور چین جیسے ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے مبینہ اقدامات کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے جاری تنازعات میں مداخلت نہ کر پانا اور غیر موثر ہونا انسانیت کے لیے بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ نئی دہلی کا یہ مطالبہ ہے کہ کونسل کے کام کرنے کے طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ اسے مزید جمہوری، شفاف اور فعال بنایا جا سکے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا مطالبہ اس کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا عکاس ہے۔ تاہم، اس راہ میں کئی چیلنجز بھی موجود ہیں جن میں سلامتی کونسل کے موجودہ مستقل ارکان کے تحفظات اور بین الاقوامی سیاست کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اگرچہ بہت سے ممالک بھارت کی حمایت کر رہے ہیں لیکن کونسل میں توسیع اور اصلاحات کا عمل کافی طویل اور صبر آزما ہے۔ بہر حال، یہ بات واضح ہے کہ سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت پر عالمی اتفاق رائے ٹوٹ چکا ہے اور اب عالمی نظام میں زیادہ متوازن نمائندگی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔