World
ٹرمپ کی نئی معاشی پابندیاں اور ایران پر ان کے ممکنہ اثرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر ممکنہ شدید اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران ماضی میں بھی پابندیوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے میں ماہر رہا ہے۔
امریکی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ نئی پالیسیوں کے تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کے سخت اقتصادی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی حلقوں میں اسے معاشی ڈی ڈے سے تشبیہ دی جا رہی ہے جس کا مقصد تہران پر دباؤ کو دوگنا کرنا ہے۔ ماضی میں بھی ایرانی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے کئی طرح کی سخت ترین پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن سے ملک کے مالیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم، تہران کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان رکاوٹوں کا توڑ نکالنے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، ایران نے برسوں کی سزا دینے والی پابندیوں کے باوجود اپنی برآمدات جاری رکھنے اور متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسمگلنگ، غیر رسمی تجارتی نیٹ ورکس اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خفیہ مالیاتی لین دین کے ذریعے تہران نے اپنی معیشت کو کسی حد تک سہارا دیا ہوا ہے۔ اس کے باوجود، اگر واشنگٹن کی طرف سے مزید سخت اور جامع معاشی محاصرہ کیا جاتا ہے تو عام ایرانی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں پہلے ہی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث عام آدمی کا جینا محال ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، علاقائی سیاست اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی پر بھی ان پابندیوں کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ایران کے پاس پابندیوں کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے کچھ روایتی طریقے موجود ہیں، لیکن آنے والے دنوں میں دباؤ مزید بڑھنے کی صورت میں تہران کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا نئی امریکی حکمت عملی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔